کوالالمپور: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ امت مسلمہ اپنی اقدار اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اقوام عالم میں کھویا ہوا مقام دو بارہ حاصل کر سکتی ہے،قیادت کوئی امتیاز نہیں بلکہ امانت ہے ،قیادت کو دیانت، اخلاص ،عدل اور شفاف احتساب کے ساتھ ادا کرنا لازم ہے،خواہش ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان علمی تعاون مزید مضبوط ہو، دونوں برادر ممالک نوجوان آبادی سے مالا مال ہیں،ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے نوجوانوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے مواقع فراہم کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ملائیشیا کی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طرف سے پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) لیڈر شپ اینڈ گورننس کی اعزازی ڈگری دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
تقریب میں ملائیشیا کی ریاست پہانگ کی ملکہ اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی آف ملائیشیا کی آئینی سربراہ تنکو عزیزہ امینہ میمونہ سکندریہ ، ملائیشیاکے وزیربرائے اعلی ٰ تعلیم داتوسری راجا ڈاکٹرزیمبری عبدالقادر،ملائیشیا کے وزیر مواصلات داتواحمد فہمی محمد فاضل ،ملائیشیا کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدرتان سری عبدالرشید حسین اورریکٹرپروفیسر عثمان باقرکے علاوہ پاکستانی وفد کے ارکان بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی آف ملائیشیا سے ڈاکٹریٹ کی طرف سے اعزازی ڈگری میرے لیےباعث اعزاز ہے ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا جیسی عظیم علمی درسگاہ سے لیڈرشپ اور گورننس میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عاجزی کے ساتھ وصول کر رہا ہوں،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی آف ملائیشیا علم و دانش کا مرکز ہے، یہ عظیم درسگاہ علم، ایمان اور اخلاق کو یکجا کر کے اعلیٰ تعلیم کے مقصد کو آگے بڑھا رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مجھے واقعی بہت خوشی ہے کہ اس ڈگری کے ذریعے میں ایک ایسی عظیم درسگاہ سے وابستہ ہو رہا ہوں جو مسلم دنیا میں بطور مادر علمی سب سے زیادہ قابل احترام ہے، میں امید کرتا ہوں کہ میری یہاں موجودگی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی آف ملائیشیا اور پاکستان کی معروف اعلی تعلیمی درسگاہوں کے مابین تعلیمی شراکت اور تعاون کو مضبوط کرے گی ،مسلم دنیا کی ایک معزز ترین درسگاہ سے منسلک ہونا میرے لیے باعث اعزاز ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ قیادت کوئی اعزاز نہیں بلکہ مقدس امانت ہے جو ایمانداری، خلوص، انصاف اور شفاف احساس جواب دہی کے ساتھ ادا کی جانی چاہیے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے عظیم شاعر مشرق و فلسفی ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے لازوال الفاظ یاد آتے ہیں جن کا وژن نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے متاثرکن ہے ۔ ان کا شعر ہے کہ ’’سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا ۔۔۔لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا‘‘۔وزیراعظم نے کہا کہ میری دعا ہے کہ یہ عظیم جامعہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی آف ملائشیا کامیابی کی منازل تسلسل سے طے کرتی رہے ،دونوں عظیم ممالک پاکستان اور ملائیشیا کے لیے اتحاد،بھائی چارے ، ترقی اور خوشحالی کے لیے گہرے تعاون کے لیے بھی دعا گو ہوں،پاکستان اور ملائیشیا کی دوستی ہمیشہ قائم رہے،اعزازی ڈگری عطا کرنے پر یونیورسٹی کے صدر ،چانسل،ر یکٹر، وزیر تعلیم، فیکلٹی ممبران اور طلبا کا شکر گزار ہوں۔ اس موقع پرملائیشیاکی ریاست پہانگ کی ملکہ اور انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی آف ملائیشیاکی آئینی سربراہ تنکو عزیزہ امینہ میمونہ سکندریہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کو قیادت اور طرز حکمرانی میں اعزازی( ڈاکٹریٹ) ڈگری عطا کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے ملائیشیا کا برادر ملک اور آئی آئی یو ایم کا بانی شراکت دار ہے اور وزیراعظم شہبازشریف کی قیادت میں یہ رشتہ مزید مضبوط ہوا ہے ،آج ہمارے پاکستانی طلبا،اساتذہ اور سابق طلبا یونیورسٹی کو مسلسل علمی و فکری طور پر مالا مال کر رہے ہیں اور مسلم امہ کی خدمت کے ہمارے مشترکہ مشن کی خدمت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعزازی ڈگری محض ایک کامیابی کا اعتراف نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان اقدار کا جشن ہے جنہیں ہم عزیز رکھتے ہیں اور جو عدل خدمت اور رہنمائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دعا گو ہیں کہ یہ اعزاز ہمارے لیے اللہ سبحان و تعالٰی کی برکتوں اور ہدایت کے ساتھ ہوتاکہ زمین پر امن اور انسانیت میں ہم اہنگی قائم ہو۔قبل ازیں ملائیشیاکی ریاست پہانگ کی ملکہ اور انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی آف ملائیشیاکی آئینی سربراہ تنکو عزیزہ امینہ میمونہ سکندریہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ ) لیڈرشپ اینڈ گورننس کی اعزازی ڈگری دی۔
