لاہور :صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کی زیر صدارت پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے بورڈ کا 132واں اجلاس منعقدہوا۔پیسک ہائوس میں منعقدہ بورڈ اجلاس میں 8 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ایم ڈی پیسک سائرہ عمر نے ایجنڈے کے نکات بارے تفصیلی بریفنگ دی۔بورڈ نے سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں کینسل پلاٹوں کے حوالے سے کمیٹی کی تشکیل دے دی۔کمیٹی 2 ہفتوں میں کینسل پلاٹوں کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
بورڈ نے پیسک اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ رولز 2025 کی منظوری دی۔رولز کی منظوری ادارے کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل،معاملات میں شفافیت اور سہولیات میں بہتری آئے گی۔پیسک بورڈ نے سمال انڈسٹریل اسٹیٹ 4 گوجرانوالہ میں بجلی کی فراہمی اور سمال انڈسٹریل اسٹیٹس 2 اینڈ 3 سمبڑیال میں پلاٹوں کی منسوخی کے لیٹرز واپس لینے کی منظوری دی۔پیسک میڈیکل پالیسی 2023،پیسک انٹرن شپ پروگرام اور پیسک فنانشل پاورز کے نظرثانی شدہ شیڈول میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔
پیسک ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 100 فیصد سپیشل الاونس کی بھی منظوری دی گئی۔ سو فیصد الائونس لگنے سے پہلے سے موجود ڈسپیریٹی،سپیشل اور مہنگائی الانس بند ہوں گے۔بورڈ نے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن اور اخوت تنظیم کے مابین وزیر اعلیٰ خود روزگار سکیم کے حوالے سے بات چیت کے ذریعے طے کردہ حکمت عملی کی بھی منظوری دی۔پیسک بورڈ نے پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے انتظامی اور بعض دیگر معاملات بھی نمٹائے۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب میں موجود 23 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔صنعتی مراکز کی 100فیصد کالونائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے۔صنعتکاری کا عمل تیز کرکے روزگار کے مواقع بڑھانا ہمارا ایجنڈا ہے۔چوہدری شافع حسین نے کہاکہ سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں صنعتی انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کا بڑا پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔پروگرام کے تحت ان صنعتی مراکز میں صفائی، سکیورٹی، روڈ انفراسٹرکچر اور دیگر معاملات کو بہتر کیا جائے گا۔
