کھٹمنڈو :نیپال میں 2 سالہ بچی آریاتارا شاکیہ کو ملک کی نئی زندہ دیوی ’’کمارى‘‘ منتخب کر لیا گیا ہے۔اردو نیوز کے مطابق اس ضمن میں تقریب نیپال کے سب سے طویل اور اہم ہندو تہوار ’دشین‘ کے دوران منعقد ہوئی۔ بچی کو ان کے گھر سے لے کر کٹھمنڈو کے ایک مندر تک خاندان کے افراد نے عقیدت کے ساتھ پہنچایا، جہاں وہ آئندہ کئی سال تک قیام کریں گی۔کمارى، جسے ’کنواری دیوی‘ بھی کہا جاتا ہے، وہ بچی ہوتی ہے جسے ہندو اور بدھ دونوں مذاہب کے ماننے والے دیوی کے طور پر پوجتے ہیں۔
روایت کے مطابق موجودہ کمارى بلوغت کو پہنچنے پر عام انسان تصور کی جاتی ہے اور اس کی جگہ نئی بچی کو منتخب کیا جاتا ہے۔زندہ دیوی کے انتخاب کے لیے بچیوں کی عمر 2 سے 4 سال کے درمیان ہونی چاہیے اور ان کی جلد، بال، آنکھیں اور دانت بے داغ ہونے چاہئیں۔ ان میں اندھیرے کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔مذہبی تہواروں کے دوران کمارى کو رتھ پر شہر بھر میں گھمایا جاتا ہے۔ وہ ہمیشہ سرخ لباس پہنتی ہیں، بالوں کو اونچی چوٹی میں باندھتی ہیں اور پیشانی پر تیسری آنکھ بنائی جاتی ہے۔
ان کے چند منتخب ساتھی ہوتے ہیں اور وہ سال میں صرف چند بار تہواروں کے موقع پر باہر آتی ہیں۔ سبکدوش کمارى کو عام زندگی میں واپس آنا مشکل ہوتا ہے جیسے کہ گھریلو کام سیکھنا یا سکول جانا تاہم گزشتہ چند سالوں میں روایات میں تبدیلی آئی ہے۔ اب کمارى کو مندر میں نجی اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے اور ٹی وی رکھنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ حکومت سبکدوش کمارى کو ماہانہ وظیفہ بھی دیتی ہے۔
