لندن :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی ترجمانی اور غزہ اور کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز بننے کا موقع ملا،اقوام متحدہ میں غزہ کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس کا مثبت نتیجہ بہت جلد سامنے آئے گا،صدرڈونلڈ ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون میں مزید وسعت لائی جائے گی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں،حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت خارجہ پالیسی سمیت تمام معاملات میں ایک پیج پر ہے،معیشت بنیادی استحکام حاصل کر چکی، اب ترقی اور پائیدار استحکام کے لیے دن رات کام ہو رہا ہے،دوست ممالک ہمارے ساتھ ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں،موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے حالیہ سیلاب نے بہت تباہی مچائی ہے،ہمارا حوصلہ اور عزم بلند ہے اس چیلنج سے نکل کر آگے بڑھیں گے،پچھلی حکومت نے دہشت گردوں کو رہا کر کے دوبارہ بسایا،ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے،افواج پاکستان نے بھارت کو جو سبق سکھایا ہےوہ اسے ہمیشہ یاد رہے گا، انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو یہاں برطانیہ میں مقیم پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ سب کو مبارک ہو، نیویارک اور واشنگٹن کا ہمارا دورہ انتہائی کامیاب اور مفید رہا ۔اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی زیر صدارت غزہ کی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں پاکستان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ قطر، یو اے ای، سعودی عرب انڈونیشیا، اردن اور مصر بھی اجلاس میں شریک ہوئے ۔ اقوام متحدہ کی عمارت میں غزہ کی صورتحال پر اجلاس خوش آئند پیش رفت ہے ۔ غزہ سے متعلق اجلاس میں حوصلہ افزا ،بات چیت ہوئی ۔ مجھے کامل یقین ہے کہ غزہ پر حالیہ اجلاس کا مثبت نتیجہ بہت جلد سامنے آئے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہو۔ غزہ میں 2023ء سے ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے جن میں بچے اورعورتیں بھی شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ میں مسلمانوں کے خلاف بربریت کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ۔ میں نے الحمدللہ غزہ کی صورتحال پر جنرل اسمبلی میں بھرپور آواز اٹھائی، فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر اور کشمیر کی آزادی کے لیے بھی جنرل اسمبلی کے فورم پر بھرپور آواز اٹھائی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور 24 کروڑ عوام کی دعاؤں سے معیشت بنیادی استحکام حاصل کر چکی، اب ترقی اور پائیدار استحکام کے لیے دن رات کام ہو رہا ہے، بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے حالیہ سیلاب نے بہت تباہی مچائی ہے۔ 2022ء کے سیلاب سے سندھ جبکہ حالیہ سیلاب سے پنجاب میں بے پناہ نقصانات ہوئے ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے ہیں، ہزاروں دیہات زیر آب آئے، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور املاک کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ ہمارا حوصلہ اور عزم بلند ہیں اور انشاءاللہ اس صورتحال سے نمٹیں گے اور اس چیلنج سے نکل کر آگے بڑھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی نے بدقسمتی سے دوبارہ سر اٹھایا ہے، چند سال پہلے دہشت گرد رہا کیے گئے ، انہیں واپس آنے دیا گیا ، یہ کسی طور پر بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پچھلی حکومت نے دہشت گردوں کو رہا کر کے دوبارہ بسایا، دہشت گردی کی بڑی وجہ دہشت گردوں کو دوبارہ بسانا ہے۔ فتنہ الخوارج ،کالعدم ٹی ٹی پی،بی ایل اے اور مجید بریگیڈ فتنہ ہندوستان کے آلہ کار ہیں۔ افواج پاکستان ،قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پولیس سب مل کر دن رات انسداد دہشت گردی کے لیے بر سرِ پیکار ہیں، دہشت گردوں کا صفایا کیا جا رہا ہے،ہمارے جوان اور افسران وطن کی حفاظت کے لیے دن رات قربانیاں دے رہے ہیں۔ جو خارجی ہاتھ دہشت گردی کے پیچھے ہیں وہ پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔فتنہ الخوارج کے خلاف سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ دہشت گردوں کا صفایا کرکے رہیں گے،وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمارے جوان اور افسران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ،اس سے بڑی اور کیا قربانی ہو سکتی ہے۔ انشاءاللہ ہم دہشت گردی کے خاتمے میں کامیاب ہوں گے اور جلد کامیاب ہوں گے۔ پاکستان کی ترقی سے خائف دہشت گرد تنظیموں کا صفایا کریں گے۔ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خارجہ پالیسی اور معیشت سمیت ہر معاملے پر مشاورت کرتے ہیں اور ہم ایک پیج پہ ہیں ، اخلاص کے ساتھ دن رات محنت کر رہے ہیں ۔دعا ہے کہ یہ ہم آہنگی جاری رہے تاکہ ماضی کے نقصانات کا ازالہ ہو سکے۔شبانہ روز محنت کے نتیجے میں پاکستان اوج ثریاکی منزل حاصل کرے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف نہیں۔سعودی عرب پاکستان کا دوست اور برادر ملک ہے صدیوں اور عشروں سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ قائم ہے ،اس کو ہم نے باضابطہ بنایا ہے اور اس معاہدے میں یہ چیز شامل ہے کہ ایک ملک پہ اگر حملہ ہوگا تو دوسرے ملک پہ بھی حملہ تصور کیا جائے گا اور مل کے اس کا مقابلہ کریں گے،دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عوام کی دیرینہ خواہش تھی جو پوری کی گئی ہے۔ہر مسلمان روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اور خانہ کعبہ کی حفاظت کے لیے کٹ مرنے کو تیار ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ کر کے ہم نے دین اور دنیا دونوں کمائے ہیں۔حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم طاقت کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں ہم پاکستان کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور ملک کی اقتصادی منزل کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ غربت و بے روزگاری کے خاتمے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔زراعت ، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت کانکنی و معدنیات اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے کیونکہ نوجوانوں کی بڑی آبادی ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس ایک موقع بھی ہے۔اگر ہم نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں، انہیں فنی تربیت آئی ٹی،زراعت مصنوعی ذہانت میں مواقع فراہم کریں تو ملک مزید تیزی سے ترقی کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک ہزار طلبہ و طالبات کو چین میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے وہ واپس آ کر ملک کے زرعی شعبے میں انقلاب برپا کریں گے،ہم پاکستان کی مضبوط اقتصادیات کے لیے جستجو کر رہے ہیں اس پہ پوری ہماری توجہ ہے،اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی ہماری نظر ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کی خواہش ہے کہ پاکستان معاشی طور پر ایک خوشحال ملک بن جائے، اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو، قرضوں سے نجات حاصل کرے،اپنی دولت خود پیدا کرے۔ اس حوالے سے پاکستانی قوم میں صلاحیت موجود ہے اور اللہ تعالی نے ہمیں قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں ۔ دوست ممالک ہمارے ساتھ ہاتھ بٹانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ خلیجی ممالک ،سعودی عرب اور امریکا تعاون کرنا چاہتے ہیں چین کے ساتھ ہمارے سٹریٹجک تعلقات ہیں اس سے بہتر حالات ہو نہیں سکتے۔ہم بھرپور عزم کے ساتھ کام کریں تو پھر کوئی چیز ہمارے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
ایک اور سوال کے جوا ب میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ میں صدر ڈونلد ٹرمپ کی صدارت میں جو اجلاس ہووہ غزہ کی صورتحال پرہی ہوا تھا کہ کس طرح غزہ میں جلد جنگ بندی ہو اور وہاں امن قائم ہو۔اس اجلاس کے بعد میری توقعات میں اضافہ ہوا اور واشنگٹن میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جو ملاقات ہوئی اس میں اس معاملے پہ بات ہوئی تو اس سے میرا حوصلہ مزید بڑھا ۔ مجھے امید ہے کہ بہت جلد اس حوالے سے اچھی خبریں ملیں گی۔
