24.9 C
Islamabad

شہریوں پر اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ میں معذور افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہوگئی

اسرائیلی بمباری کے شکار غزہ کے فلسطینیوں کی بڑی تعداد معذور ہوچکی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ معذور افراد اب غزہ میں ہیں۔

غزہ میں جاری جنگ نے فلسطینیوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ معذور افراد اب غزہ میں موجود ہیں، صرف حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 800 افراد کے اعضا کاٹنے پڑے جن میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہیں، جنگ سے پہلے غزہ میں 2 ہزار سے زائد افراد معذوری کی زندگی گزار رہے تھے۔

غزہ کا سب سے بڑا اسپتال الشِفا کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے، طبی شعبے پر شدید دباؤ ہے، مصنوعی اعضا اور ماہر سرجنز کی کمی ہے جبکہ بنیادی سہولتوں تک رسائی بھی نہ ہونے کے برابر ہے، بچوں میں جسمانی معذوری کے ساتھ نفسیاتی مسائل میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

غزہ کے ایک شہری ابراہیم عبدالنبی جب اپنے 4 بچوں کےلیے امداد لینے نکلے تو گولیوں کا نشانہ بن گئے جس سے ان کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی، غز ہ میں مصنوعی اعضا کی دستیابی نہ ہونے کے باعث عبد النبی اور ان کی اہلیہ نے گھر کے عام سامان سے مصنوعی ٹانگ بنائی، تاکہ امداد جمع کرسکیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں تقریباً 60 ہزار سے زائد افراد شہید اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں، مسلسل بمباری اور محاصرے کے باعث خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت ہے اور پوری آبادی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین