وفاقی ترقیاتی ادارے میں تعینات جونیئر افسر کی من مانییاں عروج پر پہنچ گئیں حکومتی احکامات ہوا میں اڑا دیئے من پسند افسران کا پیٹرول بحال اکثریت کی سہولت مسدود کردیں ڈی جی ایڈمن کے سامنے چیئرمین بے بس ہوگئے جونیئر آفیسر ڈیفکٹئو چیئرمین بن گیا سہیل اشرف بھی سی ڈی اے میں افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے قاصر ہیں خود کو نقوی کا چوتھا رتن کہنے والے افسر سے حکام نالاں ہیں وفاقی دارالحکومت میں سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کی سہولت کی بحالی کے معاملے پر سی ڈی اے میں مبینہ امتیازی سلوک کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات کے باوجود بعض ملازمین کو سرکاری گاڑیاں اور پٹرول کی سہولت بحال نہیں کی گئی، جبکہ چند منتخب افسران اور ملازمین کو یہ سہولیات دوبارہ فراہم کر دی گئی ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آئی سی ٹی سے تعلق رکھنے والے افسرکے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ الزام ہے کہ سرکاری پالیسی پر یکساں عملدرآمد کے بجائے پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس سے مختلف محکموں کے ملازمین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔متاثرہ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ اگر حکومت کی پالیسی کے تحت سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کی سہولت بحال کی جا رہی ہے تو اس کا اطلاق تمام اہل ملازمین پر بلاامتیاز ہونا چاہیے، نہ کہ صرف مخصوص افراد تک محدود رکھا جائے۔
