اسلام آباد
40 کروڑ روپے مالیت کے غیر رجسٹرڈ برانڈز کے سیگریٹ کو تحویل کا معاملہ سینٹ کی مجلس قائمہ کے اجلاس میں سنیٹر طلحہ محمود اور سنیٹر دلاور خان کے درمیان جھڑپ ایک دوسرے پر الزامات کی بو چھاڑ کردی سنیٹر دلاور خان سیگریٹ کے کاروبار سے وابسطہ ہیں کمیٹی ممبر نہیں پھر بھی اجلاس میں تواتر سے آتے ہیں ان کی کمیٹی میں آمد کی وجہ سے وزیراعظم اور وزیر دفاع نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے پکڑے گئے سیگریٹ کے11 ٹرکوں میں دلاور خان کا مال ہے تو ہم کیوں داغدار ہوں ہرشعبہ ہمیں شک کی نظر سے دیکھتا ہے سینٹ کی مجلس داخلہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس گذشتہ روز پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا کمیٹی نے گزشتہ چند سالوں میں کے پی بارڈر سے ملک میں 11 سو 20 ارب مالیت کا میٹیریل آنے اور اس کے کنزمپشن سرٹیفکیٹ کے اجراء میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں پر غور کیا کمیٹی ایف بی آر کی تحویل سے کروڑوں روپے مالیت کے 2828 کاٹن غیر رجسٹرڈ سیگریٹس چوری اور گزشتہ ہفتے موٹر وے پولیس کی جانب سے 11 ٹرک غیر رجسٹرڈ سیگریٹ پکڑے جانے اور ان کو سنیٹرز کی ملکیت کی خبر دینے والے نجی ٹی وی کے حوالے سے جانچ پڑتال کی گئی کمیٹی اجلاس میں سنیٹر طلحہ محمود نے بات کرتے ہوئے کہا کہ نجی ٹی وی یا بیورو چیف کا ذاتی معاملہ نہیں ہے کمیٹی کی غلطی ہے سنیٹر دلاور خان سیگریٹ کے کاروبار سے وابسطہ ہیں وہ کمیٹی ممبر ہیں نہ ہی سپیشل انوئٹی ہیں انہیں اجلاس میں بلایا جاتا ہے ان کے براہ راست مفادات ہیں ان کی شرکت کی وجہ سے وزیراعظم میاں شہباز شریف اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے خود کمیٹی کے کردار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اگر دلاور خان ہے ٹرکوں میں مال ہے تو ہمیں کیوں داغدار کررہے ہیں میں اس کمیٹی میں نہیں بھیٹوں گا اس پر سنیٹر دلاور خان نے سنیٹر طلحہ محمود پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کا پاکستان کا شناختی کارڈ بھی نہیں یہ مولانا فضل الرحمن کی مہربانی ہے کہ انہوں نے اس کا ہری پور کا کارڈ بنوانے دیا ہے یہ بیٹریاں بیچ کر سنیٹر بنا ہے میں اس کے باپ کا ملازم نہیں ہوں یہاں کنسلٹنٹ بنوں اس جیسے میرے پاس ملازم ہیں ماحول خراب ہونے پر کمیٹی چئیرمین نے مداخلت کرتے ہوئے وضاحت کی سنیٹر دلاور خان کو کمیٹی نے انوائٹ کیا ہے بعدازاں کمیٹی اجلاس ملٹری کردیا گیا
