ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ مشہد میں ادا کردی گئی، امام رضا کے مزار کے احاطے میں نماز جنازہ آیت اللہ نوری ہمدانی نے پڑھائی جب کہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔آیت اللہ علی خامنہ ای اوران کے خاندان کوامام رضا کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جارہا ہے، امام رضا کے مزار کے اطراف کی تمام سڑکیں سوگواروں سے بھر گئیں۔شرکا نے انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ پرچم لہرا دیے جب کہ شرکا نے رہنماؤں کی تصاویر اورایرانی پرچموں کے علاوہ پاکستانی پرچم بھی تھام رکھے تھے۔نمازجنازہ کے موقع پر بھی فضا انتقام، انتقام کے نعروں سے گونج اٹھی جب کہ جلوس جنازہ کے شرکا نے ٹرمپ ہم تمہیں ماردیں گے کا قد آوربینر تھام رکھا تھا۔
یاد رہے کہ شہید رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے بعض افراد کی میتیں لے کر خصوصی طیارہ آج صبح مشہد پہنچا تھا۔ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو گزشتہ 6 روز کے دوران ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جایا گیا، جہاں لاکھوں زائرین نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین مشہد میں کی جائے گی، جو ایران کا ایک مقدس شہر سمجھا جاتا ہے جب کہ ان کی خواہش کے مطابق انہیں امام رضا کے مزار کے قریب دفن کیا جائے گا۔آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے سربراہ محمد محمدی گلپایگانی نے بتایا کہ مرحوم رہنما نے اپنی زندگی میں ہی مشہد میں تدفین کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے وصیت کی تھی کہ انہیں امام رضا کے روضے کے قریب سپرد خاک کیا جائے۔
تابوت کی منتقلی سے قبل ایران اور عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا سمیت مختلف مقامات پر تعزیتی تقریبات اور جنازے کے مراحل مکمل کیے گئے۔ ان رسومات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا
