ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے ارکان کی نمازِ جنازہ پورے مذہبی احترام اور انتہائی غمگین ماحول میں ادا کر دی گئی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سابق رہبرِ اعلیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کے آخری دیدار کے لیے تہران کے بڑے مذہبی مرکز امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں لاکھوں سوگواروں کا سمندر اُمڈ آیا۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق یہ نمازِ جنازہ مشہور عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی، جسے سیکیورٹی اور ہجوم کی وجہ سے تین الگ الگ مرحلوں میں مکمل کیا گیا۔پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ہوئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کا جنازہ پڑھایا گیا۔تیسرے اور آخری مرحلے میں علی خامنہ ای کی چھوٹی اور کم سن نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔س موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے اور فضا میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق، جیسے ہی نمازِ جنازہ ختم ہوئی تو وہاں موجود انتظامیہ کے لوگوں اور منتظمین نے مائیک پر مجمعے سے علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ’انتقام، انتقام‘ کے جوشیلے نعرے لگوائے، جس کا جواب وہاں موجود لاکھوں لوگوں نے ’امریکا مردہ باد‘ کے نعروں سے دیا۔اس بڑے جنازے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای صفِ اول میں کھڑے دکھائی دیے۔ تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد اور خاندان کے دیگر ارکان کے جنازے میں شریک نہیں ہو پائے۔جنازے کے اس بڑے اجتماع میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت ملک کی تمام بڑی سیاسی و عسکری قیادت موجود تھی۔
قبل ازیں، پاکستان کی طرف سے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران پہنچ کر تعزیتی بیٹھک میں شرکت کی، دعا مانگی اور ایرانی صدر سے گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا۔عراق میں ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری نے آخری رسومات کے اگلے سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی سات جولائی کی شام کو عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں آٹھ جولائی کو نجف اور کربلا میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے۔حکومتِ ایران نے ملک میں سات دن کے سوگ کا اعلان کر رکھا ہے اور دور دراز سے آنے والے کروڑوں مسافروں کے رکنے کے لیے پانچ ہزار اسکولوں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔
