33.6 C
Islamabad

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کیس میں سپریم کورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دے دیا

وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ کیس کی سماعت کے بعد سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے مونال ریسٹورنٹ کو گرانے سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں حکمِ امتناعی بھی ختم کر دیا اور قرار دیا کہ انتظامی نوعیت کے معاملات کا فیصلہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے کریں گے، جبکہ اراضی کی ملکیت کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹس کریں گی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ٹرائل کورٹس کسی بھی عدالتی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کریں۔دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں کئی اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیس دائر کرنے اور نظرثانی درخواست پر بھی غیر ضروری برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا، ”ہم نے جذباتی فیصلہ نہیں کرنا، کیس کو پوری طرح پڑھ کر قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔“وکیل احسن بھون نے عدالت کو بتایا کہ بینچ نے کیس کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے، ”عدالت میں ہماری تعریفیں نہ کریں، ہم وہی فیصلہ دیں گے جو ریکارڈ اور سماعت کے مطابق بنتا ہے۔“انہوں نے مزید کہا، ”فیصلے میں الف لیلیٰ کی کہانی نہیں لکھیں گے، فیصلہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ پہلے بہت سی ایسی باتیں بھی شامل کر دی گئی تھیں جو عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں تھیں۔“مونال ریسٹورنٹ کیس کیا ہے؟مونال ریسٹورنٹ اسلام آباد کے مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں واقع ملک کے معروف ریسٹورنٹس میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے اس کی زمین کی ملکیت، لیز، تعمیرات اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق قانونی تنازع جاری تھا۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین