اسلام آباد()اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی عدالت نے ٹک ٹاک ثناء یوسف قتل کیس میں ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کے معاملہ میں ملزم عمر حیات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔گذشتہ روز عمر حیات کی درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل اور سٹیٹ کونسل کے علاوہ مدعی مقدمہ کی جانب سے سردار محمد قدیر ایڈووکیٹ بھی عدالت پیش ہوئے، عدالتی استفسار پر وکیل نے بتایاکہ رپورٹ فائل کردی گئی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ کیا کہتی ہے رپورٹ،ماڈل کورٹ کے پاس کیس ہے، وہ تو جلدی ہی کرے گی،ملزم عمر حیات کے وکیل نے کہاکہ ٹرائل کورٹ کا ہمارے ساتھ کنڈکٹ ٹھیک نہیں،ہم نے کبھی التواء نہیں مانگا، سرکاری وکیل نامزدکرکے فوری جرح کرلی جاتی ہے،ٹرائل کورٹ کا کنڈکٹ درست نہیں کچھ ایسے الفاظ بھی استعمال کیے جو اوپن عدالت میں کونسل کے بارے میں نہیں کہے جاسکتے،استدعا ہے کہ پہلے سے جرح کو ختم کرکے ہمیں دوبارہ جرح کرنے کا حق دیاجائے،ہمیں ٹرائل کورٹ پر اعتماد نہیں کسی بھی دوسری کورٹ میں منتقل کردیاجائے،اس موقع پرمدعی مقدمہ کے وکیل سردار محمد قدیر نے کہاکہ دس ماہ ہوگئے ہیں، چیف بیان ہوچکے، چھ ماہ میں انہوں نے صرف دو گواہان پر جرح کی،جسٹس خادم حسین سومرو کی عدالت نے تفصیلی فیصلہ بھی دیاتھا،آج دن تک جرح نہیں ہوئی،ٹرائل کورٹ ماڈل کورٹ ہے اور اس نے انہیں بہت سہولت دی،چیف جسٹس نے ملزم کے وکیل سے کہاکہ آپ کارویہ جو ٹرائل کورٹ کے ساتھ ہے ایسے ٹرائل کورٹ آپ کے ساتھ کیسے چلے گی،جرح کیلئے آپ دس گھنٹے لیں گے اور نہیں کریں گے کہ ہمیں وقت دیاجائے تو کیا ہوگا،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ آپ کیوں اسلام آباد ہائی کورٹ آئے ہوئے ہیں، جس پر ملزم کے وکیل نے کہاکہ ہم ٹرائل کورٹ کے رویہ اور ہماری عدم موجودگی میں کاروائی بڑھانے کے خلاف آئے ہیں،ہم نے ٹرائل کورٹ کو بھی درخواست دی تھی جومسترد کردی گئی،ٹرائل کورٹ نے موقع پر سٹیٹ کونسل مقرر کرکے کہا ایک گھنٹہ میں جرح کریں،وکیل صاحب بیمار تھے ایک موقع توملنا چاہیے تھے، مدعی مقدمہ کے وکیل سردار عبدالقدیر نے کہاکہ انہیں بہت سے مواقع ملے، لیکن کئی مرتبہ التواء مانگا گیا،جج صاحب پر بھی اعتراض کیاگیا، چیف جسٹس نے ملزم کے وکیل سے کہاکہ آپ ادھر آجاتے ہیں اور ادھر جاتے نہیں، آپ ادھر آئیں تو ادھر عدالت کو بتا کر آنا چاہیے،کونسل کا کنڈکٹ نظر نہیں آ رہا، کورٹ کا دوسری پارٹی سے بھی رابطہ اور تعلق بھی نہیں ہے،وہ ماڈل کورٹ ہے اور سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے،وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
