اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔عرب میڈیا ادارے العربیہ نے اسرائیلی اخبار ’یدیوت احرونوت‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کو خفیہ طور پر بتایا کہ ایران کے اعلیٰ رہنما نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی منظوری دی ہے تاکہ ممکنہ معاہدہ طے پایا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے شرائط کے مطابق مذاکرات پر آمادہ ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران نے اس کی تردید کی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ بات چیت کسی ’اعلیٰ سطح کے فرد‘ کے ذریعے ہو رہی ہے، اگرچہ انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں میں پانچ روز کی عارضی تاخیر کا اعلان کیا
