اسلام اباد
پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر سالم الزعابی نے کہا ہے کہ خطہ اس وقت مشکل اور پیچیدہ حالات سے گزر رہا ہے، تاہم یہ صورتحال عارضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات غیر معمولی صبر، تحمل اور ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ خطے میں حالات مزید خراب نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی کا حل صرف سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے۔ یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کئی سفیر سالم الزعابی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ہمیشہ عالمی امن و استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، ساتھ ہی تجارتی سرگرمیوں کی بھی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امارات عالمی کاروبار کا ایک اہم شراکت دار رہا ہے اور یہ سلسلہ تیزی سے جاری رہے گا، جس سے اس کی حیثیت دنیا کے نمایاں تجارتی مراکز میں مزید مضبوط ہوگی۔ایرانی میزائل حملوں کے باوجود اماراتی دفاعی نظام مؤثر ثابت ہوا ہے انہوں نے بتایا کہ امارات کو نشانہ بنانے والے بیشتر ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے روک کر ناکارہ بنا دیا گیا، جو اماراتی دفاعی نظام کی صلاحیت اور مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فوجی ردعمل سے گریز، طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے
سفیر نے کہا کہ امارات کی جانب سے فوجی ردعمل سے گریز ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا اور کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنا ہے۔انہوں نے ان حالات میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
ایران کی پالیسیاں خطے کے لیے خطرہ، بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے سفیر سالم الزعابی نے ایران کی جانب سے امارات اور دیگر عرب و ہمسایہ ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر تشویش اور مذمت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پالیسیاں خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں، خصوصاً جب رہائشی اور تجارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے۔
کشیدگی کے خاتمے کے بعد امارات بھرپور انداز میں بحال ہوگاانہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کشیدگی کے خاتمے کے فوراً بعد متحدہ عرب امارات چند دنوں میں مکمل طور پر اپنی سرگرمیاں بحال کر لے گا اور دنیا بھر کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنی معاشی و تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دے گا۔ایران کے ساتھ ماضی کے تعلقات اور حالیہ پیش رفت پر بات کرتے ہوئےسفیر نے کہا کہ ماضی میں امارات اور ایران کے تعلقات مثبت رہے ہیں، اور امارات نے پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھے۔ تاہم حالیہ حملے، خصوصاً بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا، ایک نہایت خطرناک اور تشویشناک پیش رفت ہے۔
