27.1 C
Islamabad

ٹرمپ کا یورپ کو ایک جھٹکا، نیٹو اتحاد سے اپنا عملہ نصف کرنے کا اعلان

امریکا نے نیٹو کے مختلف اہم کمانڈ سینٹرز میں تعینات اپنے عملے کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس فیصلے کے تحت امریکا نیٹو کے اُن اداروں سے تقریباً دو سو آسامیاں ختم کرے گا جو اتحادی افواج اور انٹیلی جنس سرگرمیوں کی نگرانی اور منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے سے متعلق کچھ یورپی حکومتوں کو آگاہ کر دیا ہے۔متاثر ہونے والے اداروں میں برطانیہ میں قائم نیٹو انٹیلی جنس فیوژن سینٹر، برسلز میں الائیڈ اسپیشل آپریشنز فورسز کمانڈ اور پرتگال میں قائم سمندری کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے اسٹرائیک فور نیٹو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیٹو کے چند دیگر ادارے بھی اس فیصلے کی زد میں آئیں گے۔ذرائع نے اس اقدام کی واضح وجہ نہیں بتائی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت امریکا اپنے زیادہ تر وسائل مغربی نصف کرے پر مرکوز کرنا چاہتا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے سب سے پہلے اس فیصلے کی خبر دی تھی۔اگرچہ یہ کمی یورپ میں موجود امریکی فوجی طاقت کے مجموعی حجم کے مقابلے میں کم ہے اور اس سے بظاہر امریکا کے یورپ سے مکمل انخلا کا عندیہ نہیں ملتا، کیونکہ اس وقت یورپ میں تقریباً 80 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن میں سے تقریباً نصف جرمنی میں موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود اس فیصلے کو علامتی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ اقدام یورپی ممالک میں پہلے سے موجود بے چینی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔یہ تشویش اس پس منظر میں مزید گہری ہو گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر گرین لینڈ کو ڈنمارک سے حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، جسے نیٹو کے اندر ممکنہ علاقائی جارحیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

بلوچستان چاغی مائننگ سائیٹ پر حملہ9 افراد جاں بحق

بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایک مائننگ کمپنی کے...

آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں پینٹاگون

امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے امریکی کانگریس کو...

تازہ ترین