28.8 C
Islamabad

این جی سی کے زیراہتمام پاور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کے حوالے سے ورکشاپ کا انعقاد

لاہور

نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) کی جانب سے پاور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں رائٹ آف وے (ROW) سے متعلق مسائل پر لمز میں اپنی نوعیت کی پہلی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں قانونی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں اور پاور سیکٹر سے وابستہ اہم سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی تاکہ منصوبوں کیلئے زمین کے حصول سے متعلق چیلنجز کے حل کے لیے نئے قانونی اور آپریشنل فریم ورک کی تشکیل کی راہ ہموار کی جا سکے جو پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام کی بروقت اور قابلِ اعتماد فراہمی کو متاثر کرتے ہیں۔

رائٹ آف وے سے متعلق مسائل، خصوصاً ٹرانسمیشن لائنز اور متعلقہ انفراسٹرکچر کے لیے زمین کے حصول میں درپیش قانونی اور عملی مشکلات، پاکستان میں گرڈ کی توسیع کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں شامل ہیں۔ زمین کے حصول میں تاخیر نہ صرف لاگت میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ گرڈ کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے اور عوام تک سستی بجلی کی فراہمی میں تاخیر کا سبب بنتی ہے۔ یہ ورکشاپ ان چیلنجز کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے جہاں ماہرین کو یکجا کر کے اس مسئلے کا مؤثر اور منصفانہ حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ورکشاپ کا آغاز این جی سی کی چیف لا آفیسر مس ماریہ رفیق نے کیا اور اپنے ابتدائی کلمات میں ورکشاپ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے اسے پاکستان کی بڑھتی ہوئی ٹرانسمیشن ضروریات کے مطابق مؤثر گورننس ماڈل کی تشکیل کے لیے ایک مسلسل اور منظم کوشش کا آغاز قرار دیا۔

چیئرمین این جی سی بورڈ ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ صدیوں پرانے قانونی ڈھانچے میں اصلاح ناگزیر ہے۔ ہمیں ردِعمل پر مبنی انداز سے نکل کر پیشگی اقدامات کی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، چیلنجز کا ادراک پہلے سے کرنا ہوگا، اپنے نظام کو جدید بنانا ہوگا اور ایسے فریم ورک تشکیل دینا ہوں گے جو آج کی ترقیاتی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں۔

ورکشاپ کے دوران کی گئی گفتگو میں ایک اہم نکتہ 1894 کے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ (LAA) میں اصلاح کی فوری ضرورت پر زور تھا جو کہ نوآبادیاتی دور کا قانون ہے اور آج بھی پاکستان میں زمین کے حصول کو ریگولیٹ کرتا ہے حالانکہ یہ موجودہ انفراسٹرکچر ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔مہمانِ خصوصی، چیئرمین سی پی پی اے-جی بورڈ عرفان علی نے اس بات پر زور دیا کہ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں کیونکہ زمین مالکان کے ساتھ منصفانہ اور مساوی سلوک نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ ایک عملی ضرورت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصفانہ طرزِ عمل شکایات کو کم کرتا ہے، قانونی تنازعات میں کمی لاتا ہے اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بناتا ہے۔ این جی سی کے قانونی مشیر ڈاکٹر داؤد منیر نے موجودہ قانونی فریم ورک پر تفصیلی پریزنٹیشن دی جس میں انہوں نے موجودہ نظام اور عملی ضروریات کے درمیان موجود خلا کو اجاگر کیا اور بڑے پیمانے پر ٹرانسمیشن منصوبوں کے لیے ایک جدید رائٹ آف وے فریم ورک کے اہم عناصر پیش کیے۔ بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسا جدید نظام جو عوامی مفاد اور شہری حقوق میں توازن قائم کرے، نہ صرف زیادہ منصفانہ اور عوام دوست ہوتا ہے بلکہ حکومتی ترقیاتی اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

ورکشاپ میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں، ای پی سی کنٹریکٹرز، ڈپٹی کمشنر آفس لاہور، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی، عالمی بینک اور سی پی پی اے-جی کے نمائندگان نے شرکت کرکے اپنی فیلڈ کے تجربات شیئر کیے اور عملی رکاوٹوں، قانونی خطرات اور طریقہ کار میں بہتری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تاکہ منصوبوں کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔

منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی انجینئر الطاف حسین ملک نے اختتامی کلمات میں قانون سازی اور داخلی اصلاحات کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ زمین کے حصول سے متعلق قوانین فرسودہ ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ نئے قوانین لانا ضروری ہے، تاہم کسی بھی نئے فریم ورک کے تحت مؤثر انداز میں کام کرنے کیلئے صرف قانونی اصلاحات کافی نہیں، ہمیں اپنے داخلی نظام، منصوبہ بندی اور مقامی کمیونٹیز و زمین مالکان کے ساتھ روابط کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔

مزیداسی طرح کی
Related

بلوچستان چاغی مائننگ سائیٹ پر حملہ9 افراد جاں بحق

بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایک مائننگ کمپنی کے...

آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں 6 ماہ لگ سکتے ہیں پینٹاگون

امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے امریکی کانگریس کو...

تازہ ترین