اسلام آباد
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل۔مجوکہ کی عدالت میں زیر سماعت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازعہ ٹویٹ کیس میں گواہ انیس الرحمن پر جرح مکمل کرلی گئی۔گذشتہ روز سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے پراسیکوشن کی استدعا پر سماعت میں وقفہ کردیا، جس کے بعد سماعت شروع ہونے پرہادی علی چٹھہ کیجانب سے گواہ پر جرح کی گئی، ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ توہین مذہب کے کتنے کیسز میں آپ نے رپورٹ بنائی،؟، جس پر گواہ انیس الرحمن نے کہاکہ اس حوالے مجھے یاد نہیں ہے کتنے کسیز تھے،میرے علم میں نہیں ہے کہ توہین مذہب کیسز کے حوالے سے ہائی کورٹ میں لائیو سماعت ہوتی رہی،میری تعلیم ایم فل کمپیوٹر سائنس ہے،میں نے ڈیپارٹمنٹل ٹریننگ کی ہوئی ہے،پیکا ایکٹ، سائبر کرائم، سی آر پی سی کے حوالے سے ورکشاپس کی،جبری گمشدگی کے کیسز کے حوالے سے کوئی ٹریننگ یا ورکشاپ نہیں کی،میرے نالج کے مطابق اسٹیٹ کا مطلب اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے،ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ آپ کوئی ایک ایسی ٹویٹ دکھا سکتے ہیں جس میں ریاست مخالف بات ہو،گواہ انیس الرحمن نے کہاکہ تمام ٹویٹس اور سبجیکٹ بیانیہ کے حوالے سے تھی،ٹویٹس میں مسلحہ جدوجہد کے حوالے سے کوئی لفظ نہیں ہے،پرامٹ انجینشن کے حوالے سے یہ جو پوچھ رہے ہیں وہ میں بتا چکا ہوں اور یہ کیا چاہتے ہیں،میں نے اپنی رپورٹ میں ٹرم ڈس انفارمیشن ویکٹر استعمال کی،یہ سارا کونٹینٹ ہی ہیرا پھیری پر مبنی ہے،ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نےکہاکہ کیا آپ اس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟، گواہ انیس الرحمن نے کہاکہ میں فی الحال اس کی تشریح نہیں کر سکتا،ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ آپ نے جن دیگر لوگوں کا ذکر کیا، کیا یہ وہی افراد ہیں جنہوں نے ایمان مزاری کی پوسٹ ری پوسٹ کی؟، گواہ انیس الرحمن نے کہاکہ جی ہاں، انہی لوگوں کا ذکر ہے،ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہاکہ سر اس کیس کو ملتوی کر دیں چیف منسٹر آ رہے ہیں ،پراسیکیوٹرنے کہاکہ یہ ایک پارٹی کا ایونٹ ہو رہا ہے، ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہاکہ بار کی جانب سے ایونٹ آرگنائز کیا ہے ، پراسیکیوٹرنے کہاکہ چیف منسٹر کے پی خود بھی ایک ملزم ہیں،عدالت نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا، جس کے بعد سماعت شروع ہونے پر ہادی علی چٹھہ کیجانب سے گواہ انیس الرحمن پر پھر جرح شروع کی گئی جس کے دوران گواہ نے کہاکہ میں نے اپنی رپورٹ میں متعلقہ ملزمان کیخلاف کسی دوسرے کا ذکر نہیں گیا،میرے نالج کے مطابق تمام ٹویٹس میں بی ایل اے ودیگر کالعدم جماعتوں کی حمایت کی گئی ہے، دوران سماعت ہادی علی چٹھہ کیجانب سے کیس فائل میں ایک ٹویٹ گواہ کو پڑھایا گیااور کہاگیاکہ کیا اس ٹویٹ میں ٹی ٹی پی یا بی ایل اے کا ذکر موجود ہے،جس پر گواہ نے کہاکہ اس ٹویٹ میں نام کیساتھ ذکر نہیں ہے مگر بیانیہ وہی ہے،تمام ٹویٹس فیک، ریاست محالف ہیں اور غلط انفارمیشن پر مبنی ہیں،ماہرنگ بلوچ کو کب بین کیا گیا تھا اس حوالے نہیں تاریخ نہیں یاد،جب رپورٹ بنائی تھی اسوقت نیکٹا کی ویب سائٹ چیک کی تھی، کالعدم جماعتوں یا لوگوں کا بیانیہ پھیلانا جرم ہے،اس موقع پر ہادی علی چٹھہ کیجانب سے ڈان اخبار کی سٹوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا کہ31 جولائی 2025 کو ڈان اخبار نے حق دو تحریک بلوچستان کے حوالے سے خبر پبلس کی،خبر میں مریم اورنگزیب، مولانا ہدایت الرحمان، ودیگر کے بیانات کا حوالہ موجود ہے،گواہ انیس الرحمن نے کہاکہ میں اس حوالے سے رائے نہیں دے سکتا ایسا کوئی کیس میرے پاس آیا تو دیکھوں گا،ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ بیرسٹر عقیل ملک جو حکومت کے نمائندہ ہیں انہوں نے عرب نیوز میں ماہرنگ بلوچ ودیگر سے مزاکرات کی بات کی،عقیل ملک کے بیان پر انیس الرحمن کی کیا رائے ہے،میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہو گا میرے پاس کیس آئے گا تو دیکھوں گا،گواہ انیس الرحمن نے کہاکہ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے، کا نعرہ ریاست محالف ہے،سماعت کے دوران مریم نواز کی تقریر چلائی گئی، جس میں تقریر کے دوران مریم نواز نے نعرے لگائے، ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ کیا مریم نواز کی تقریب ریاست محالف کے ذمرے میں آتی ہے؟، گواہ نے کہاکہ جب مجھے ویڈیو ملے گی تو پھر ہی اس پر کوئی کمنٹ کروں گا،جبری گمشدگی پاکستان کا سنگین مسئلہ ہے یا نہیں اس حوالے سے مجھے نہیں پتا،گمشدہ افراد کے حوالے سے کوئی کمیشن ہے یا نہیں اس حوالے سے مجھے نہیں پتا،لاپتہ افراد کے حوالے سے ریاستی پالیسی کیا ہے مجھے نہیں پتا،میرے نہیں پتا لشکر جھنگوی اور اہلسنت الجماعت کالعدم جماعتیں ہیں،ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ کالعدم جماعتوں لشکر جھنگوی، اہلسنت الجماعت کا کوئی ایونٹ کروانا جرم ہوگا؟،دوران سماعت عدالت میں اہلسنت الجماعت اور لشکر جھنگوی کے ایونٹ کی ویڈیو چلائی گئی، ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ ویڈیوز میں عدالت دیکھ سکتی ہے کالعدم جماعت کے ایونت کے انتظامات پولیس کررہی ہے،گواہ نے کہاکہ میں اس حوالے سے کوئی کمنٹ نہیں کروں گا، میرے پاس کیس آتا ہے تو دیکھوں گا،دوران سماعت عدالت میں ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور کا لاپتہ افراد کے حوالے سے بیان بھی چلایا گیا اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے لاپتہ افراد کے بیان کے حوالے سے کیا کہیں گے،اس پر گواہ نے کہاکہ میں اس کوئی کمنٹ نہیں کروں گا،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گواہ انیس الرحمن پر جرح مکمل ہوجانے پر عدالت نے سماعت 7 جنوری تک کیلئے ملتوی کردی۔
