34.9 C
Islamabad

سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا سیاست میں مفاہمت کی بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے اعلان

اسلام آباد

  • تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قومی کانفرنس میں سیاسی رہنماں، وکلا، صحافیوں نے پی ٹی آئی کو مفاہمت کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے اور اس کا ساتھ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اپوزیشن تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت قومی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماں، وکلا، صحافیوں، دانش وروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔سیاسی رہنماں نے آئینی ترامیم کو مسترد کیا، پارلیمنٹ کو بے اختیار کرنے کی مذمت کی۔ وکلا نے عدلیہ کو بے حیثیت کرنے اور صحافیوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف آواز بلند کی، شرکا نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مفاہمت کے بجائے مزاحمت کرنے پر اتفاق کیا اور پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کی راہ اپنائے ہم ساتھ دیں گے۔
    کانفرنس سے خطاب میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئیں ایک دوسرے کو معاف کریں ہم معاف کرتے ہیں، آئیں مل کر ملک پاکستان کو اس بربادی سے نکالیں، ہم جمہوری ڈائیلاگز کے لیے تیار ہیں، اگر کوئی مذاکرات کرنا چاہتا ہے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دیں۔انہوں نے کہا کہ سزائیں تو آپ دے رہے ہیں مگر ملاقات تو فیملی اور قائدین کا حق ہے وہ تو دیں، مولانا فضل الرحمان، نواز شریف، جماعت اسلامی سمیت قائدین بیٹھیں اور بات کریں، 8 فروری کے الیکشن میں جس کی جیت ہوئی اسے الیکشن دے دیں۔انہوں نے کہا کہ 5309 ارب کی کرپشن کی رپورٹ سامنے آئی ہے، ہمارے ادارے ہماری آنکھیں ہیں اور ہمارے کان ہیں وہ اپنا کام ضرور کریں، سیاست میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
    سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی نے کہا کہ جیلیں اور قربانیاں ہی قوموں کو آزادی دلاتی ہیں، آزادی طویل اور صبر آزما قربانیوں کا نتیجہ ہے، 30 سے 40 سال کی جدوجہد کے بعد آزادی ممکن ہوئی، علمائے کرام اور سیاسی کارکنوں کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں، حقوق جدوجہد سے ملتے ہیں، پیچھے ہٹنے سے نہیں، سب ایک ہیں تقسیم کی باتیں قبول نہیں۔جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ روزانہ ٹی وی پر بیٹھ کر ہمیں سبق دیتے ہیں، کہتے ہیں یہ کرو، وہ کرو، ہم ہمیشہ سر ہلا دیتے ہیں، ہم کہتے ہیں آ مکالمہ کریں، مگر بات آگے نہیں بڑھتی میں کسی تحریک یا ٹکرا کی سیاست کا حامی نہیں ہوں، میں نہ کسی کی توہین چاہتا ہوں، نہ کسی کو نیچا دکھانا مقصد ہے، ہم نے ساری عمر جدوجہد کی ہے نعروں کی سیاست نہیں کی۔
    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج ہم عدالت گئے کہ سماعت تھی مگر توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ آگیا جس کی توقع نہیں تھی، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اس جبر کو سہنا ہے یا نہیں، اس معاملے کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے نہیں یہ مجموعی معاملہ ہے، ظلم کو ظلم کہنا ہے، یہ بات لے کر ہمیں ہر پاکستانی کے پاس جانا ہے، آج انصاف نہیں مل رہا یے جبر کے نظام سے چھٹکارا نہیں مل رہا۔
    ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 140 کے تحت ہمارے قدم روک دیئے جاتے ہیں، ہمیں اکٹھے آگے بڑھنا ہے، بانی پی ٹی آئی نے پیغام دیا ہے کہ قوم اسٹریٹ موومنٹ کے لیے تیار رہے، اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، آج ہم سب کو آگے بڑھنا ہے ہم اس غریب کے ساتھ ہیں جس میں آواز سننے والا کوئی نہیں، ہم اقتدار کی جنگ نہیں لڑنا چاہتے ہمیں اصولوں کی جنگ لڑنی ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ اب ہمارے پاس کوئی آپشن باقی نہیں رہا اب ہم سڑکوں پر نکلیں گے اب صرف مزاحمت ہو گی، کوئی سمجھتا ہے کہ ڈر جائیں گے ان کی بھول ہے، ہم بانی پی ٹی آئی کے لیے میرٹ کے مطابق انصاف چاہتے ہیں۔جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم قومی محاذ پر غیر جانب دارانہ انتخابات کے لیے ہر قومی آواز کو طاقت ور بنانے کا کردار ادا کریں گے، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے قومی ترجیحات کا تعین ہونا چاہیے، قومی ایجنڈے پر سیاسی جماعتیں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو اکٹھا ہونا ہوگا، پرامن سیاسی جدو جہد کی جانب آگے بڑھنا ہوگا، قومی ترجیحات میں کم از کم ایجنڈا متفقہ آئین کا تحفظ کرنا ہے، آئین میں بدنیتی کی بنیاد پر مصنوعی اکثریت کے ساتھ جو ترامیم کی گئی ہیں انہیں واپس کروانا ہوگا۔لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ماضی میں آمر آئین توڑتے رہے ایمرجنسی لگی، اب یہ راستہ اختیار کرلیا گیا کہ اپنی مرضی کے مطابق دو تہائی اکثریت بنالی، اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا، ججز کی سطح پر تقسیم سمیت بنچ اور بار کے فاصلے سے عدلیہ کی آزادی سلب ہوئی، عدلیہ کیلئے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ نا ممکن ہو چکا۔
    ایمان مزاری نے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت پاکستان کی مقبول ترین جماعت ہے کیوں کہ عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا، تحریک انصاف اپنی پالیسی واضح طور پر بیان کرے اور فیصلہ کرے کہ کیا آپ سہیل آفریدی والی مزاحمت چاہتے ہیں یا مفاہمت کا راستہ چاہیے؟ مگر یہ واضح رہے کہ ظالم، جابر اور قابض کے سامنے مفاہمت نہیں مزاحمت ہی کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں پی ٹی آئی کی ووٹر یا سپورٹر نہیں ہوں مگر میری پی ٹی آئی سے درخواست ہے کہ اپنی پالیسی واضح کردے کہ وہ مزاحمت کے لیے تیار ہے تو ہم سب اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین