33.2 C
Islamabad

حماس اور اسرائیل کے مابین ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں،ابرار احمد خان

راولپنڈی: پوری امت مسلمہ غزہ اور اسرائیل کے مابین ہونے والے امن معاہدہ پر اللہ کے حضور سربسجود ہے۔ رب العزت کا بے پناہ شکر کہ اس نے آج ہمیں یہ دن دکھایا ۔ غزہ کی سر زمین تاریخ کے بدترین ظلم و ستم کے دور سے گزری ہے۔ہر روز معصوم بچوں، عورتوں اور بے قصور شہریوں پر مسلسل بمباری کی وجہ سے اسپتال، تعلیمی ادارے اور عبادت گاہیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ بالآخر امن جیت گیا اور ظلم کا خاتمہ ہوا۔

ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن شمالی پنجاب کے صدر ابرار احمد خان نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ اس سے قبل نافع کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے غزہ مارچ میں شریک طلباء وطالبات و اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ ہمدردی اخلاقی اور انسانی فریضہ ہے۔ غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی محض مذہب ، رنگ و نسل اور زبان کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ غزہ میں انسانیت اور آدمیت کی تذلیل کی گئی ہے جس پر ہر ذی شعور انسان پریشان ہے۔

ابرار احمد خان نے کہا کہ غزہ کا مسلہ سنگین ترین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انکا محاصرہ نہ صرف زمین، سمندر اور فضا سےکیا گیا ہے، بلکہ کھانے، پینے کے پانی، ایندھن، دوا، اور طبی امداد تک کو روک دیا گیا ہے۔ لاکھوں انسان بھوک، پیاس، بیماری، خوف اور تباہی کے عالم میں زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرے۔غزہ کی جنگ یہ صرف جنگ نہیں بلکہ ایک کھلی اور منظم نسل کشی تھی، جس کا مقصد ایک مظلوم قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا تھا۔ صہیونی ریاست نے ظلم و بربریت کی وہ حدیں پار کر لی ہیں جن پر تاریخ بھی شرمندہ ہے۔ ابرار آحمد خان نے کہا حماس اور اسرائیل کے مابین ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ نسل کشی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے والے مسلم رہنما بھی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین