امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد ہفتے اور اتوار کو حملے روک دیے جانے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 4.89 ڈالر یا 5.05 فیصد کم ہو کر 91.89 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت کچھ دیر کے لیے 90 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے چلی گئی۔اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 4.67 ڈالر یا 5.23 فیصد کمی کے بعد 84.64 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔دونوں معیار کے خام تیل کی قیمتیں تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں، جبکہ اس سے قبل مسلسل تین ہفتوں تک ان میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل دوبارہ معمول پر آ سکتی ہے۔اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے اتوار کو امریکی نیوز چینل فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کے لیے مزید وقت دینے کی غرض سے امریکی حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔آئی جی مارکیٹس کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اب یہ امید بڑھ رہی ہے کہ شاید ایک حقیقی سفارتی راستہ کھل رہا ہے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق مزید وضاحت کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی طرف واپسی ایک مضبوط آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
