امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ قیادت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو یہ تک معلوم نہیں کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے امریکا کو یہ بھی واضح نہیں کہ ایران میں مذاکرات کے لیے کس سے بات کی جائے۔پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی قیادت کے بارے میں مختلف خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ان کے مطابق بعض افراد کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت بہت خراب ہے، جبکہ کچھ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ کچھ لوگ یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے اور ممکن ہے کہ ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی ہو۔تاہم انہوں نے کہا کہ کسی کے پاس اس بارے میں واضح معلومات نہیں ہیں اور کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں۔ان کے بقول چونکہ انہوں نے حالیہ دنوں میں عوامی طور پر کوئی بیان نہیں دیا اس لیے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا کو اس وقت یہ بھی معلوم نہیں کہ ایران میں اصل قیادت کس کے ہاتھ میں ہے۔ان کے مطابق جب تک یہ واضح نہ ہو کہ ایران میں فیصلہ سازی کون کر رہا ہے، اس وقت تک کسی بھی قسم کے مذاکرات یا سفارتی رابطوں میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔اس سے چند روز قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ممکنہ طور پر زخمی ہیں اور انہیں شدید جسمانی نقصان پہنچا ہے۔دوسری جانب ایران کی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز ایک انٹرویو میں کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں
