ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ جنگ کے ابتدائی حملوں میں زخمی ہوئے تھے، جس کی وجہ سے وہ تاحال عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ٹانگ میں زخم آئے تھے تاہم وہ محفوظ مقام پر موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو یہ زخم 28 فروری کو ہونے والے اس فضائی حملے کے دوران آئے جس میں ان کے والد اور ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔ اسی حملے میں ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی شہید ہوئے تھے۔نیویارک ٹائمز نے ایرانی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا کہ زخمی ہونے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای ہوش میں ہیں اور ایک انتہائی محفوظ مقام پر محدود رابطوں کے ساتھ موجود ہیں۔
اس معاملے پر پہلی مرتبہ ایرانی حکومتی حلقوں کی جانب سے وضاحت بھی سامنے آئی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیٹے یوسف پزشکیان نے اپنے ٹیلیگرام پیغام میں کہا کہ انہیں بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی خبر ملی تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنے ذرائع سے معلومات حاصل کیں۔یوسف پزشکیان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ ہیں اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے
