پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت کارروائیاں ہفتے کے روز بھی جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں افغان طالبان حکومت کی مبینہ بلااشتعال جارحیت کے جواب میں کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف سرحدی سیکٹرز میں افغان چیک پوسٹوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے جاری آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان کو بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اب تک 331 طالبان کارندے ہلاک اور تقریباً 500 زخمی ہو چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ پاک فوج نے 22 اہم چیک پوسٹوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ افغان طالبان کے 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔
پاک فضائیہ نے بھی افغانستان بھر میں 37 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان فضائی حملوں کا مقصد ایسے ٹھکانوں کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف سرگرمیاں منظم کی جاتی تھیں۔حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں صرف مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔اطلاعات کے مطابق مہمند سیکٹر کے قریب ایک افغان چیک پوسٹ کو تباہ کیا گیا جبکہ آریانہ کمپلیکس اور دبگئی چیک پوسٹ کو بھی دھماکوں سے اڑا دیا گیا۔ اسی طرح پولیس ہیڈ کوارٹر اور ذاکرخیل پوسٹ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ لغمان میں کارروائی کرتے ہوئے ایک اسلحہ ڈپو کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اے بی ایف بٹالین ہیڈ کوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے
