سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق محمود بنگش نے اسلام آباد وائلڈ لائف بورڈ کی سابق انتظامیہ پر بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے گزشتہ روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ سابق چیئرپرسن رعنا سعید اور بورڈ ممبر وقار زکریا پر مالی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر قانونی خریداری، غیر ملکی فنڈز کے غلط استعمال اور جانوروں کی غیر قانونی منتقلی کے سنگین الزامات کےتحت
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FIA) کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں ڈاکٹر طارق بنگش کے مطابق رعنا سعید نے پہلے FIA تحقیقات رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے سٹے لینے کی کوشش کی جس سے تحقیقات چھ ماہ تک متاثر رہیں تاہم تحقیقات بحال ہونے اور FIR درج ہونے کے بعد
FIR خارج کرانے کے لیے وکیل سلمان صفدر کی خدمات حاصل کی گئیں،تاہم عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے FIA سے تعاون کا حکم دے دیا۔
ڈاکٹر طارق بنگش نے مزید کہا کہ
مرغزار چڑیا گھر کی منظم بندش اورقیمتی جانوروں و پرندوں کی مبینہ غیر قانونی تقسیم کا بھی انکشاف کیا ہے اس معاملے میں ڈاکٹر انیس، رعنا سعید، وقار زکریا، سخاوت علی اور ظہیر احمد کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ سخاوت علی اور ظہیر احمد کو بعد ازاں ریگولر اور ترقی دے کر نوازنے کا الزام عائد کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ مارگلہ ریسکیو سینٹر پرجانوروں کے کلینک مافیا سے روابط اورصحت مند جانوروں کو بیمار ظاہر کر کےکروڑوں ڈالر کی ڈونیشنز اکٹھی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ کاؤن ہاتھی، براؤن بیئر کی بیرونِ ملک منتقلی اور
Four Paws NGO کا کردار بھی کی۔ملی بھگت کی ہے
