اسلام آباد
پاکستان کے نان بینک مالیاتی شعبے نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران مضبوط ترقی کا سلسلہ برقرار رکھا، جہاں مجموعی اثاثے 31 دسمبر 2025 تک بڑھ کر 6.84 کھرب روپے ہو گئے، جو 30 جون 2025 کے 5.635 کھرب روپے کے مقابلے میں 21 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق فنڈ مینجمنٹ اور قرضہ فراہم کرنے والے دونوں شعبوں میں تیز رفتار نمو دیکھنے میں آئی، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور مالی شمولیت میں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔فنڈ مینجمنٹ سیکٹر نے چھ ماہ کے دوران 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ میوچل فنڈز بدستور سب سے بڑا ذیلی شعبہ رہے جن کے اثاثے 4.5 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو مجموعی صنعت کے 66.3 فیصد کے برابر ہیں۔ فنڈز اور منصوبوں کی تعداد 369 سے بڑھ کر 409 ہو گئی۔ میوچل فنڈز کی سرمایہ کاری متنوع رہی، جس میں 44 فیصد منی مارکیٹ فنڈز، 23 فیصد انکم فنڈز اور 14 فیصد ایکویٹی فنڈز میں سرمایہ کاری کی گئی۔سرمایہ کاروں کی شرکت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور میوچل فنڈ سرمایہ کار اکاؤنٹس کی تعداد 845,000 تک پہنچ گئی، جو جون 2025 کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دسمبر 2022 کے بعد سے سرمایہ کار اکاؤنٹس کی تعداد دوگنا ہو چکی ہے، جو عام سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔رضاکارانہ پنشن اسکیموں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں شرکاء کے اکاؤنٹس کی تعداد 143,154 تک پہنچ گئی، جو جون 2025 کے مقابلے میں 30 فیصد اور دسمبر 2022 کے مقابلے میں 170 فیصد اضافہ ہے۔
نان بینک مالیاتی کمپنیوں (NBFCs) کے قرضہ فراہم کرنے والے شعبے نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی، جس کے اثاثے چھ ماہ میں 65 فیصد بڑھ کر 824 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ مجموعی طور پر شریعہ کے مطابق اثاثوں کا حجم 2.47 کھرب روپے رہا، جو صنعت کے کل اثاثوں کا 36 فیصد ہے۔
رجسٹرڈ NBFCs اور مضاربہ اداروں کی تعداد 174 سے بڑھ کر 185 ہو گئی، جو شعبے کی مسلسل ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
