اسلام آباد،
* کمپیٹیشن اپیلٹ ٹریبونل (CAT) نے کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی جانب سے یونائیٹڈ ڈسٹری بیوٹرز پاکستان لمیٹڈ (UDPL) اور انٹرنیشنل برانڈز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (IBL) پر کمپیٹیشن مخالف نان کمپیٹ معاہدہ کرنے پر عائد مجموعی طور پر 40 ملین روپے جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ یہ معاہدہ کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی تھا۔اپنے فیصلے میں ٹریبونل نے قرار دیا کہ اپیل کنندگان نے اپنے طرز عمل سے خود اس معاہدے کو نان کمپیٹ انتظام تسلیم کیا اور سی سی پی کے اس مؤقف کی توثیق کی کہ یہ معاہدہ کمپیٹیشن کو محدود کرتا ہے اور ممنوعہ مارکیٹ شیئرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔سی سی پی نے کارروائی کا آغاز اس وقت کیا جب یو ڈی پی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو عوامی طور پر آگاہ کیا کہ اس نے آئی بی ایل کے ساتھ نان کمپیٹ معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت یو ڈی پی ایل نے آئی بی ایل سے 1.131 ارب روپے کے عوض پاکستان میں تین سال تک انسانی ادویات کی تقسیم نہ کرنے پر اتفاق کیا۔سی سی پی نے پایا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں متعلقہ مارکیٹ میں یو ڈی پی ایل بطور حریف مؤثر طور پر باہر ہو گیا اور کمپیٹیشن محدود ہو گئی۔ یہ بھاری ادائیگی یو ڈی پی ایل کے مارکیٹ سے اخراج کو یقینی بنانے کے لیے مالی ترغیب تھی، جس سے آئی بی ایل کو کمپیٹیشن دباؤ سے تحفظ ملا اور مارکیٹ میں داخلے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔اگرچہ معاہدے میں ریگولیٹری منظوری کی شرط شامل تھی، تاہم دونوں کمپنیوں نے سی سی پی سے پیشگی استثنیٰ حاصل نہیں کیا اور شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد استثنیٰ کے لیے درخواست دی۔ سی سی پی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ معاہدہ استثنیٰ کے قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا اور خلاف ورزی پہلے ہی ہو چکی تھی۔چنانچہ سی سی پی نے کمپیٹیشن مخالف معاہدہ کرنے اور اس پر عملدرآمد کرنے پر کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 38 کے تحت یو ڈی پی ایل اور آئی بی ایل پر 20، 20 ملین روپے جرمانہ عائد کیا۔ٹرائیبونل نے خلاف ورزی سے متعلق سی سی پی کے نتائج کو برقرار رکھتے ہوئے اس مؤقف کی بھی تائید کی کہ استثنیٰ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اپیل کنندگان نے کوئی مزید قانونی چارہ جوئی نہیں کی، جو اس خلاف ورزی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ ٹریبونل نے قرار دیا کہ یو ڈی پی ایل اور آئی بی ایل پر عائد کردہ 20، 20 ملین روپے جرمانہ جائز اور مناسب ہے، اور اس طرح مجموعی طور پر 40 ملین روپے جرمانہ برقرار رکھا جاتا ہے۔
