پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کئی روز تک جاری رہنے والے فروخت کے دباؤ کے بعد بدھ کو مثبت رجحان واپس آگیا جہاں ٹریڈنگ سیشن کے دوران بینچ مارک 100 انڈیکس میں 4 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوپہر ایک بجکر 55منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 4,039.46 پوائنٹس یا 2.33 فیصد اضافے سے 177,189.87 پوائنٹس پر جاپہنچا۔اہم شعبوں بشمول آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں (ای اینڈ پی)، او ایم سیز، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ مارکیٹ میں زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز بشمول ایچ بی ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل، مار، اوجی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، حبکو اور پی ایس اوبھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2026 میں دوبارہ سرپلس (منافع) میں آگیا جس کی بنیادی وجہ سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 121 ملین ڈالر سرپلس رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں دسمبر 2025 میں 265 ملین ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ سالانہ بنیادوں پر بھی بیرونی توازن میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ جنوری 2025 میں 393 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔
یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج دباؤ کا شکار رہی اور اس میں مندی کا تسلسل برقرار رہا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,303.52 پوائنٹس یا 0.75 فیصد کی کمی کے بعد 173,150.42 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا حالانکہ عالمی منڈیوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے نئی تشویش نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے کے بعد تیل کی قیمتیں دباؤ کا شکار رہیں۔
جاپان کا بینچ مارک نکی 225 انڈیکس 0.93 فیصد اضافے کے ساتھ 57,090.14 پر پہنچ گیا جس سے مسلسل تین روزہ مندی کا سلسلہ ٹوٹنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
