اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کھانے پینے کی چیزوں کے لیے غیر معیاری بوریوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ 30 دن کے اندر ملک بھر میں ایسی بوریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا جائے، عدالت نے کہاکہ قانون صرف کتابوں میں سجانے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے، جسٹس محمد اعظم خان نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت کاکہناہے کہ غیر معیاری بوریاں بنانے والی فیکٹریوں، گوداموں اور دکانوں پر چھاپے مارے جائیں اور سامان ضبط کیا جائے، سیمنٹ والی پرانی بوریوں میں آٹا بھرنا کینسر جیسی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے،قانون توڑنے والوں کے خلاف اب صرف جرمانہ نہیں بلکہ مقدمات درج کر کے گرفتاریاں بھی کی جائیں،ناقص بوریوں کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے کا آٹا ضائع ہوا ہے،گزشتہ 8 سالوں میں لاپرواہی کی وجہ سے قومی خزانے کو 80 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی وزارتِ خوراک اور چاروں صوبوں کو مل کر ایکشن لینے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے حکم دیاکہ چیف سیکرٹریز اور فوڈ اتھارٹیز اپنے اپنے علاقوں میں اس فیصلے پر سختی سے عمل کروائیں،پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور وزارتِ خوراک تین ماہ کے اندر مکمل رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔
