وزیراعظم شہباز شریف نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر نظرثانی درخواست دائر کی جائے تاکہ پہلے سے کیے گئے معاہدوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔یہ ہدایت بدھ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی خصوصی اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت خود وزیراعظم نے کی۔اجلاس میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے نئے ضوابط کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احسن خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، سردار اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر برائے نجکاری محمد علی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو یہ بھی ہدایت کی کہ ایسی جامع حکمت عملی تیار کی جائے جس کے تحت 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کا مالی بوجھ قومی گرڈ سے بجلی استعمال کرنے والے تقریباً 3 کروڑ 76 لاکھ صارفین پر منتقل نہ ہو۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے نظام میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی ایک طبقے پر غیر متناسب بوجھ نہ پڑے۔
یاد رہے کہ نیپرا نے پیر کے روز پروزیومر ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کو نیٹ بلنگ سے تبدیل کیا جارہا ہے۔نیٹ میٹرنگ کے تحت صارف اپنی اضافی بجلی گرڈ کو بھیج کر اسی حساب سے یونٹس ایڈجسٹ کرا سکتا تھا، جبکہ نیٹ بلنگ میں خرید و فروخت کا حساب مختلف طریقے سے کیا جائے گا۔نئے ضوابط کے مطابق پروزیومر وہ صارف کہلائے گا جو بجلی خود بھی پیدا کرے اور استعمال بھی کرے۔ اس میں گھر کی چھت پر سولر پینل لگانے والا شہری، بائیو گیس پلانٹ چلانے والا کسان یا ونڈ ٹربائن استعمال کرنے والی صنعتی تنصیب شامل ہو سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ صاف توانائی پر مبنی ہو اور اس کی گنجائش ایک میگاواٹ تک ہو۔تاہم پروزیومر بننے کے لیے صرف بجلی پیدا کرنے کا نظام لگانا کافی نہیں ہوگا بلکہ ایک باقاعدہ منظوری کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس عمل کے بعد اگر صارف اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی استعمال کرے گا تو اس سے متعلقہ ٹیرف کے مطابق بل وصول کیا جائے گا۔ اگر وہ ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرے گا تو اضافی یونٹس لائسنس یافتہ کمپنی قومی اوسط توانائی خرید قیمت پر خریدے گی۔
