کراچی:
گل پلازہ میں ایک ہی دکان سے 30 لاشیں ملی ہیں جس کے بعد سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں، انہوں نے کہا کہ ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہے، پہلے لاشیں نکالی جارہی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد لوگوں نے خود کو بچانے کے لیے دکان میں بند کرلیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت مسمار کر دیا جائے گاڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بتایا کہ گل پلازہ میں ریسکیو 1122 کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا، فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت مسمار کر دیا جائے گا۔جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ عمارت کومسمار کرنے کی ذمہ داری ایس بی سی اے کی ہوگی، ایس بی سی اے کی رپورٹ میں عمارت کو خطرناک اور ناقابل استعمال قرار دیا تھا۔ڈی سی ساؤتھ نے مزید کہا کہ عمارت کے باقی بچ جانے والے حصہ کو فائنل ریسکیو سرچ کے بعد مسمار کیا جائے گا۔پولیس سرجن کے مطابق 11 نعشوں کی شناخت ہوگئی، ڈی این اے سیمپل لے لئے گئے، 51 لواحقین کے نمونے بھی لئے جا چکے ہیں۔اس کے علاوہ مزید ایک لاپتہ شہری کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک سے رابطہ کر لیا، 65 سالہ جہانگیر شاہ کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک پر اندراج کروا دیا جس کے بعد لاپتہ شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی
