کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل (سی اے ٹی) نے یونی لیور پاکستان اور فرائز لینڈ کیمپینا اینگرو کے خلاف کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے ان نتائج کو برقرار رکھا ہے جن میں ان کمپنیوں پر فروزن ڈیزرٹس کو آئس کریم کے طور پر مشتہر کر کے صارفین کو گمراہ کرنے کا الزام تھا۔پریس ریلیز کے مطابق یہ معاملہ پاکستان فروٹ جوس کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ’ (ہائیکو آئس کریم کی تیار کنندہ کمپنی) کی جانب سے دائر کردہ ایک شکایت کے بعد سامنے آیا تھا۔ شکایت میں دونوں کمپنیوں پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے دھوکہ دہی پر مبنی مارکیٹنگ کر رہی ہیں۔باضابطہ انکوائری کے بعد سی سی پی نے یونی لیور پاکستان اور فرائز لینڈ کیمپینا اینگرو کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے، جو بالترتیب ’والز‘ اور ’اومور‘ کے برانڈز کے تحت فروزن ڈیزرٹس فروخت کرتی ہیں۔ کمیشن نے اپنے فیصلے میں ’پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی(پی ایس کیو سی اے) اور پنجاب پیور فوڈ ریگولیشنز 2018‘ کے معیارات پر انحصار کیا۔ان ضوابط میں آئس کریم اور فروزن ڈیزرٹ کے درمیان واضح فرق کیا گیا ہے۔ آئس کریم کی تعریف ایک ایسی مصنوعات کے طور پر کی گئی ہے جو دودھ، کریم یا ڈیری کے دیگر اجزاء سے بنی ہو، جبکہ فروزن ڈیزرٹس ایسے پاسچرائزڈ مکسچر سے تیار کیے جاتے ہیں جس میں دودھ کی مصنوعات کے ساتھ ساتھ کھانے کے قابل نباتاتی تیل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔سی سی پی نے نتیجہ اخذ کیا کہ فروزن ڈیزرٹس کو آئس کریم کے طور پر پیش کرنا صارفین کو غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کرنے کے مترادف ہے، جو کہ کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی ہے۔ کمیشن نے دونوں کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اشتہارات میں ایسی غلط بیانی سے باز رہیں۔
ٹربیونل نے سی سی پی کے نتائج کو درست تسلیم کرتے ہوئے ہر کمپنی پر عائد جرمانے کی رقم 7 کروڑ 50 لاکھ (75 ملین) روپے سے کم کر کے ایک کروڑ 50 لاکھ (15 ملین) روپے کر دی۔یونیلور پاکستان کے معاملے میں اپنے فروزن ڈیزرٹ کا ڈیری آئس کریم سے غلط موازنہ کرنے والے اشتہارات چلانے پر عائد اضافی جرمانہ بھی 2 کروڑ روپے سے کم کر کے 50 لاکھ روپے کر دیا گیا۔
ٹربیونل نے واضح کیا کہ جرمانوں میں کمی کو خلاف ورزی سے درگزر کرنا نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ رعایت اپیلٹ ڈسکریشن (اختیارِ تمیزی) کے اصولوں کے تحت دی گئی ہے
