امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لگام ڈال دی۔ ایوان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کرلی، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں اختیارات کم کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ قرار داد کے حق میں 215 نمائندگان نے ووٹ ڈالے،208ووٹ خلاف پڑے۔4رپبلکن اراکین نے بھی قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا۔قرارداد کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی فوجی واپس بلانے ہوں گے، جب تک کہ کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے۔ووٹنگ کے دوران چار ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعت کی قیادت کے برخلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جبکہ کسی بھی ڈیموکریٹ نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ سات ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان میں مشی گن سے ٹام بیریٹ، اوہائیو سے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا سے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی سے تھامس میسی شامل ہیں۔اگرچہ اس قرارداد کی فوری قانونی حیثیت محدود ہے کیونکہ اسے مؤثر ہونے کے لیے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے، تاہم یہ ووٹنگ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے تحفظات کی عکاسی کرتی ہے۔ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین سابقہ قراردادیں ناکام ہو چکی تھیں، تاہم ان کی ناکامی کا فرق مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے اس قرارداد پر ووٹنگ بھی مؤخر کر دی تھی کیونکہ اس کے منظور ہونے کے امکانات بڑھ گئے تھے
