ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا ہے اور مختلف شہروں میں حالات بتدریج معمول کی طرف آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق بین الاقوامی فون کالز بحال کر دی گئی ہیں، تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے۔ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ سiکیورٹی خدشات کے باعث انٹرنیٹ کی بندش کا فیصلہ کیا گیا تھا، جبکہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے مزید اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ایک امریکی انسانی حقوق کی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 1850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری جانب ایرانی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کیا ہے۔حکام کے مطابق یہ مواد مبینہ طور پر بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کسی بھی امریکی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہر طرح سے تیار ہے
