ایران میں گزشتہ پندرہ روز سے جاری احتجاج میں نمایاں طور پر شدت آگئی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان کی صورتِحال نازک ہوتی جا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر کرد اور آذری آبادی والے علاقوں سے شروع ہونے والے مظاہرے اب پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار اور مقامی رپورٹس کے مطابق ایران کے 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں میں پرتشدد واقعات دیکھنے میں آ رہے ہیں، جہاں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔بعض مقامات پر مظاہرین میں مسلح جتھوں کی موجودگی کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد صورتِحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔بڑھتی ہوئی بدامنی کے پیش نظر ایرانی حکام نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج کو بھی میدان میں اتار دیا ہے۔ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ عزم کے ساتھ ہر سازش کا مقابلہ کرے گی اور ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔فوج کا کہنا ہے کہ عوامی حمایت کے نام پر فتنہ بھڑکانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم ایرانی عوام دشمن کی سازشوں کو سمجھتے ہیں اور انہیں ناکام بنائیں گے۔فوجی قیادت کے مطابق اسرائیل اور دیگر دشمن عناصر عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ سپریم کمانڈر اِن چیف کی کمان میں فوج نہ صرف خطے میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے گی بلکہ قومی مفادات، اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گی
