ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں نے شدت اختیار کر لی ہے اور امریکی میڈیا کے مطابق ان واقعات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 217 ہو گئی ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان اعداد و شمار کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جن میں 26 بینک، 25 مساجد اور درجنوں فائر ٹرک شامل ہیں۔بعض علاقوں میں پولیس اسٹیشنز پر حملے بھی کیے گئے، جس کے نتیجے میں کئی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر معطل کر دی گئی ہے۔ملک میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے باعث حکام نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے، جس سے ایران بڑی حد تک بیرونی دنیا سے کٹ گیا ہے۔ بیرونِ ملک سے فون کالز موصول نہیں ہو رہیں، متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور آن لائن نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو پا رہی ہیں۔
دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی اور ایران کے مختلف شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔
ایرانی حکومت نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کی ریاستی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور بیرونی مداخلت روکی جائے۔ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ داخلی معاملات پر امریکی بیانات مداخلت اور دھوکا دہی کے مترادف ہیں۔
