اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری کو مبینہ طور پر آذربائجان جانے والی فلائٹ سے آف لوڈ کرنے کے متعلق معاملے پر دائر درخواست قانونی کارروائی کے لئے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ درخواست پر قانون کے مطابق انکوائری کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔ گزشتہ روز جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری احتشام الحق کی درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں، اس لیے اس معاملے کو ڈی جی ایف آئی اے کے سامنے زیرِ التواء تصور کیا جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ عدالتی حکمنامے کی مصدقہ نقل ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کی جائے۔ تحریری حکمنامے کے مطابق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے عملے نے آذربائجان جانے والی فلائٹ سے بغیر کوئی وجہ بتائے زبردستی آف لوڈ کر دیا۔ درخواست گزار کے مطابق یہ اقدام غیر قانونی تھا اور عملے کی جانب سے پاسپورٹ پر آف لوڈنگ کی مہر بھی ثبت کی گئی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پاسپورٹ اور متعلقہ ریکارڈ سے آف لوڈنگ کی مہر ختم کی جائے، غیر قانونی آف لوڈنگ پر ہرجانہ ادا کیا جائے اور مبینہ طور پر رشوت طلب کرنے کے الزامات کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ ایف آئی اے عملے نے 80 ہزار روپے رشوت طلب کی اور رقم کی ادائیگی پر سفر کی اجازت دینے کا کہا گیا۔ عدالت نے تحریری حکمنامے میں نشاندہی کی کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست گزار نے عدالت سے رجوع کرنے سے قبل ڈی جی ایف آئی اے کو اس معاملے پر کوئی درخواست نہیں دی۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار پر لازم تھا کہ وہ پہلے متعلقہ افسر کے سامنے معاملہ رکھتا۔ ایف آئی اے نے اپنے جواب میں آف لوڈنگ، رشوت طلب کرنے اور دیگر الزامات کی تردید کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر درخواست گزار شواہد فراہم کرے تو غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹاتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ وہ معاملے کی قانون کے مطابق انکوائری کرکے رپورٹ پیش کریں۔
