امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (ایف سی سی) نے قومی سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر غیر ملکی ساختہ ڈرونز کے نئے ماڈلز اور ان کے اہم پرزہ جات کی امریکا میں درآمد پر پابندی عائد کردی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جن ڈرونز پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں چین کی معروف کمپنیوں ڈی جے آئی اور آٹیل کے ڈرونز بھی شامل ہیں۔
ایف سی سی کے مطابق غیر ملکی ساختہ ڈرونز اور ان کے اہم پرزہ جات امریکا کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایف سی سی کی جانب سے ان کمپنیوں کو ”کورڈ لسٹ“ میں شامل کیے جانے کے بعد اب ڈی جے آئی، آٹیل اور دیگر غیر ملکی ڈرون ساز کمپنیاں امریکا میں نئے ڈرون ماڈلز یا اہم پرزہ جات فروخت کرنے کے لیے ضروری سرکاری منظوری حاصل نہیں کر سکیں گے۔ایف سی سی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دسمبر 2024 میں امریکی کانگریس کی جانب سے دی گئی ہدایت کے تحت اٹھایا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ایک سال کے اندر سیکیورٹی جائزہ مکمل نہ ہوا تو ڈی جے آئی اور آٹیل کو فہرست میں شامل کر لیا جائے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ اقدام چینی ساختہ ڈرونز کے خلاف امریکا کی حالیہ سخت پالیسیوں میں ایک بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، ستمبر میں امریکی محکمہ تجارت نے بھی کہا تھا کہ وہ چینی ڈرونز کی درآمد کو محدود کرنے کے لیے ایسے قواعد متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو ایف سی سی کے اقدامات سے بھی آگے جا سکتے ہیں۔ایف سی سی نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندی پہلے سے منظور شدہ ڈرون ماڈلز پر لاگو نہیں ہوگی اور نہ ہی اس سے پہلے خریدے گئے ڈرونز کے استعمال پر کوئی اثر پڑے گا جب کہ صارفین قانونی طور پر خریدے گئے ڈرونز بدستور استعمال کر سکیں گے
