اسلام آباد(وقائع نگار ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالسلام نے ملکی معاشی ترقی کے لیے تعلیم کو اولین ترجیح بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26.2 ملین بچوں کا اسکول سے باہر ہونا اور تعلیم پر جی ڈی پی کا محض 0.8 فیصد مختص ہونا قومی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے حکومتِ پاکستان سے دو ٹوک مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ میں تعلیمی مَد کو جی ڈی پی کا کم از کم 4 فیصد مختص کیا جائے تاکہ تعلیمی شعبے کو درپیش بحرانوں پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ملکی معاشی استحکام کی بنیاد ہے، اور ایک ہنرمند و تعلیم یافتہ نوجوان نسل ہی پاکستان کو معاشی طور پر خود کفیل بنا سکتی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 اور بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ تعلیمی اخراجات میں کمی اور بجٹ کا غیر متوازن استعمال فوری اصلاحات کا متقاضی ہے۔
ڈاکٹر عبدالسلام نے آئین کے آرٹیکل 25-A پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ وفاقی تعلیمی بجٹ کی ترجیحات تبدیل کی جائیں اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ ابتدائی، ثانوی اور ٹیکنیکل و ووکیشنل تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے الگ خصوصی فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ قوم کی ترجیحات کا عکاس ہوتا ہے اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم میں سرمایہ کاری ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے 2030 کے عالمی تعلیمی اہداف (SDG-4) کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ہر سطح پر اس بات کے لیے کوشاں رہے گی کہ پاکستان کی تعلیمی پالیسیوں کو صنعت و تجارت کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ملک میں ایک بہتر اور مستحکم معاشی مستقبل کی تعمیر ممکن ہو سکے۔ #
