اسلام آباد( وقائع نگار ) 34 سال سے التواء کاسیکٹر D-16/17 (انجینئرز ہاؤسنگ اسکیم) کے متاثرین کی شکایات کے ازالے کے حوالے سے منگل کے روز سی ڈی اے فسیلیٹیشن سینٹر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ممبر پلاننگ نے کی جبکہ متعلقہ اعلیٰ سی ڈی اے حکام جن میں ڈائریکٹر ہاؤسنگ سوسائٹیز، ڈی جی بلڈنگ کنٹرول، ڈی جی لاء اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ شریک تھے۔اجلاس میں متاثرین کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا، جہاں ڈائریکٹر ہاؤسنگ سوسائٹیز اعجاز شیخ نے ممبر پلاننگ کو اسکیم کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر 34 سال سے ریلیف کے منتظر متاثرین نے بھی اپنے مسائل براہِ راست پیش کیے۔متاثرین کی نمائندگی پریزیڈنٹ کمیٹی شکیل نذیر اور وائس پریزیڈنٹ ملک شوکت اقبال نے کی، جنہوں نے تمام متاثرہ ممبران کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا اور طویل عرصے سے جاری الاٹمنٹ، ڈویلپمنٹ اور قبضے کے مسائل پر روشنی ڈالی۔ممبر پلاننگ نے تمام فریقین کو غور سے سننے کے بعد موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے فوری حل کے احکامات جاری کیے جبکہ تمام معاملات پر جامع رپورٹ دس دن کے اندر پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی اجلاس کے اختتام پر انجینئرز ہاؤسنگ اسکیم کے متاثرین نے ممبر پلاننگ اور سی ڈی اے ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کھلی کچہری کے ذریعے ان کے مسائل سننے اور فوری اقدامات کرنے کے فیصلے کو سراہا۔ متاثرین نے امید ظاہر کی کہ تین دہائیوں سے جاری ان کے مسائل اب جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے۔یہ بھی واضح کیا گیا کہ متاثرہ افراد ماضی میں تمام متعلقہ فورمز سے رجوع کر چکے ہیں اور مسلسل ریلیف کے منتظر ہیں۔
