31.6 C
Islamabad

امریکہ کے پاس ایران جنگ سے نکلنے کی کوئی واضح حکمت عملی نہیں_ جرمن چانسلر

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کمزور دکھائی دے رہا ہے اور اسے افغانستان و عراق جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ اس جنگ کے معاشی اثرات یورپ پر بھی پڑ رہے ہیں۔قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کو سبکی کا سامنا ہے اور واشنگٹن کے پاس اس تنازع سے نکلنے کا واضح راستہ موجود نہیں۔جرمن شہر مارسبرگ میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے فریڈرک مرز نے کہا کہ اس قسم کی جنگوں میں داخل ہونا آسان مگر نکلنا مشکل ہوتا ہے اور امریکا ماضی میں افغانستان اور عراق میں اسی طرح کے طویل اور مہنگے تنازعات کا سامنا کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت نہایت مہارت سے مذاکرات کر رہی ہے اور توقع سے زیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ مرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکا کو مشکل صورت حال میں ڈال دیا ہے۔جرمن چانسلر نے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس تنازع کے اثرات جرمنی کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ سے توانائی کی قیمتوں اور معاشی پیداوار پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔فریڈرک مرز نے مزید کہا کہ جرمنی آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے تحفظ کے لیے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز بھیجنے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ اقدام جنگ بندی سے مشروط ہوگا۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

ایران حملوں کا نشانہ بننے والی سعودی ریفائنری نے دوبارہ کام شروع کردیا

ایرانی حملوں میں متاثر ہونیوالی سعودی آئل ریفائنری نے...

امریکہ ایران جنگ پر 25 ارب ڈالر خرچ کر چکا پینٹاگون

ایران جنگ پر امریکا اب تک 25 ارب ڈالر...

روسی صدر کی ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلیفون ایران کے جوہری پروگرام پر ثالثی کی پیشکش

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

تازہ ترین