اتفاق کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی نمایاں کمی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔سرمایہ کاروں کی توجہ اب ریزرو بینک آف انڈیا کے پالیسی فیصلے پر مرکوز ہے، مارکیٹیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث برقرار غیر یقینی صورتحال کے درمیان ترقی اور افراطِ زر کے حوالے سے اپ ڈیٹ شدہ پیش گوئیوں کا گہری نظر سے مشاہدہ کررہی ہیں۔
ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 9:39 بجے تک نفٹی 50 انڈیکس 3.39 فیصد اضافے کے ساتھ 23,906.20 کی سطح پر پہنچ گیا جبکہ سینسیکس 3.57 فیصد اضافے کے ساتھ 77,273.75 کی سطح پر آگیا۔دیگر ایشیائی منڈیوں میں 4.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ خام تیل کی قیمتیں گر کر 95 ڈالر فی بیرل پر آگئیں، یہ کمی ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے روک دے گا اور یہ کہ طویل مدتی امن معاہدے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔اس پیش رفت نے مستقبل قریب میں تنازع کے مزید شدت اختیار کر جانے کے خدشات کو کم کر دیا ہے جن کی وجہ سے تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی تھیں۔ قیمتوں میں اس اضافے سے دنیا کے تیسرے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ ملک، بھارت کی معیشت، کارپوریٹ منافع اور مالیاتی منڈیوں کے لیے خطرات پیدا ہو گئے تھے۔
