اسلام آباد:
ایران، امریکا جنگ کے معاشی اثرات سے کمزور طبقات کو بچانے اور معاشرتی طور پر پسماندہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے پیر کو ایوان صدر میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا جس میں ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجزکا جائزہ لیا گیا۔پیر کو ایوان صدر میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم محمد نواز شریف، وفاقی وزرا ، چاروں صوبوں کے وزائے اعلیٰ ، وزیر اعظم آزاد کشمیر ، قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں مہنگائی کے دباؤ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔ تیل و گیس کی سپلائی پر دباؤ کے باوجود ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی تجاویز مسترد کر دی گئیں۔کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی ہدایت کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وفاق کی جانب سے دو ہفتہ وار چھٹیوں، ہفتہ اور اتوار کو ملک گیر سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور ہوا تاکہ ملک میں تیل کی کھپت کو روکا جاسکے تاہم اس میں بعض شرکاء کی رائے تھی کہ اسمارٹ لاک داؤن سے پیداواری سر گرمیاں متاثر ہوں گی اور برآمدات پر منفی اثر پڑے گا، صوبوں کی تجویز اسمارٹ لا ک ڈاؤن کی تجویز پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باجود ملک میں تیل کی کھپت میں 25فیصد اضافہ ہوگیا ہے جس پر وزارت اطلاعات سے کہاگیا کہ بحرانی کیفیت سے نمٹنے کیلئے عوامی شعور کی آگاہی کیلئے منظم مہم چلائے تاکہ لوگ اپنا لائف سٹائل تبدیل کریں۔صدر مملکت نے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور شیئرڈ موبیلٹی کے استعمال کی ترغیب دینے کی ہدایت بھی دی۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے پاکستان کی معیشت اور فوڈ سکیورٹی پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
