اسلام آباد(وقائع نگار)اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اسلام آبادہائیکورٹ پہنچ گئے اور صدر بار کے دفتر میں دونوں سے ملاقات کی، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں لوگوں کے بہت اعتراض ہیں یہ ملک مشکلات میں پھنس چکا ہے،لوگ عدالتوں کی طرف آتے ہیں کہ شائید یہاں سے ریلیف مل جائے،ریلیف دینے والے دھکوں کا زہر دیتے ہیں، بلوچستان کے لوگوں کو ہم سے گلے ہیں،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جیسے نوجوان جذبہ حریت ہیں،ایسے نوجوانوں کی قدر کرنی چاہئیے،زندہ رہنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے،ایک بے گناہ کا قتل تمام انسانیت کا قتل ہے، علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ پاکستان بدقسمتی سے بدنصیب ملک ہے،حکمران جن کے ہاتھ میں اختیار ہے وہ ملک کی سافٹ پاور کو بری طرح کچلتے ہیں،یہاں سول سوسائٹی، وکلاء و دیگر تنظیموں اور ہر کسی کو کچلا جاتا ہے،یہاں الیکشن لوٹ لیا جاتا ہے جبکہ حکمران چننا عوام کا حق ہے،آئین نے ہمیں اپنی مرضی سے حکمران چننے کا حق دیا ہے،پاکستان میں لوگوں کے بہت اعتراضات ہیں،ملک اس وقت بحران کا شکار ہے، مشکلات کے شکار لوگ عدالتوں سے ریلیف لینے آتے ہیں،بلوچستان کے لوگوں کے گلے ہیں، سرجری آخری آپشن ہوتا ہے لیکن ہم سب سے پہلے کرتے ہیں،زندگی گزارنے کا حق ہر انسان کو ہے کسی کو یہ حق چھیننے کا حق نہیں،ہمارے ملک میں انسانی جان کی قیمت ہی ختم ہو گئی ہے،ایک بےگناہ کا قتل تمام انسانوں کا قتل ہے، اللہ تعالیٰ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے،کئی سالوں سے آپریشن کے بعد کوئی حل نکلا ہے؟،ایک گھر کے اندر ناانصافی ہو تو گھر ٹوٹ جاتا ہے،پاکستان پر رحم کھائیں اور اس کے امیج کو تباہ مت کریں آپ نہیں سنبھال سکیں گے،کروڑوں لوگوں کو کھانا نہیں ملتا، کوئی بولے گا تو اسے مارو گے؟،جن کو حق اور انصاف نہیں مل رہا وہ لوگ کہاں جائیں؟،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ہمارے دو نوجوان ہیں جن میں جذبہ حریت ہے،یہ عقلمند ہوں تو نوجوانوں میں خود حریت پیدا کریں،یہ اٹھتے ہیں کہ جو حریت پسند ہیں ان کو گولی ماد دیں آواز بند کر دیں،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ مظلوموں کی آواز بنتے ہیں،اسلام میں احتساب ہے لیکن دین انتقام کی اجازت نہیں دیتا،دنیا میں عدلیہ اور وکلاء کا شعبہ بہت باوقار ہوتا ہے،ایمان مزاری پر ڈنڈے سے پولیس والوں کو مارنے کا الزام عائد کر دیا گیا،چھ ماہ بعد ایف آئی آر کاٹ رہے ہیں کہ ان کو ہر حال میں جیل میں ڈالنا ہے،یہ رویے عدلیہ کیلئے بھی بہت نقصان دہ ہیں،لوگ جب عدلیہ سے ناامید ہو جاتے ہیں تو پھر وہ اپنا انصاف خود لینے نکلتے ہیں،ان دونوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ سراسر زیادتی ہے،آئین اور قانون اجازت دیتا ہے، تو آپ کیسے کہتے ہیں کہ کوئی بولے ہی نہ یہ ملک قبرستان بن جائے؟،انسان انسان تب بنتا ہے جب ہر ظالم کے خلاف اور ہر مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو،آپ جیل میں ڈال کر کیا کر لو گے؟ مہینہ جیل میں رکھو گے تو یہ اور مقبول ہو جائیں گے،آپ کی کریڈیبلٹی اتنی خراب ہو چکی ہے کہ آپ جسے غلط کہتے ہیں لوگ کہتے ہیں یہی ٹھیک ہے،آپ کے گھروں میں بیٹیاں بہوئیں ہیں ایسا مت کریں یہ ہماری بیٹی ہے اللہ ناراض ہوتا ہے،اگر آپ نہیں سمجھیں گے تو اللہ ظالموں سے انتقام لیتا ہے،ایسے مقدمات درج کرینگے تو لوگ آپ کی عزت کریں گے؟،واپس آ جاؤ، اللہ نے توبہ کا راستہ رکھا ہوا ہے اگر تم واپس نہیں آؤ گے تو لوگ تمہیں طاقت سے واپس لائیں گے،میں حکمرانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے ظالمانہ اقدامات سے باز آ جائیں۔
