37.7 C
Islamabad

حکومت کا امریکہ کی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

حکومتِ پاکستان اور امریکہ کی ورلڈ لبرٹی فنانشل (ڈبلیو ایل ایف) کی ملحقہ کمپنی ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد جدید ترین ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام اور سرحد پار مالیاتی اختراعات میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ واضح رہے کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کا مرکزی کرپٹو بزنس ہے۔اس تقریب کی نگرانی وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔ سرکاری بیان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچے کے حوالے سے تکنیکی فہم اور منظم بات چیت کو ممکن بنانا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سی ای او زیکری وٹکوف نے اپنے اپنے فریقین کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے۔ یہ پیش رفت ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔اس اہم ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی شرکت کی۔وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے اپنے وژن کا ذکر کیا جس کا مقصد شہریوں کے لیے رابطے، رسائی اور شفافیت کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی اختراعات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی رفتار پاکستان کی پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کا لازمی حصہ ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مارکیٹوں میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل فنانس کا حصہ بن رہا ہے۔ملاقات کے دوران زیکری وٹکوف نے پاکستان کے ساتھ محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ڈھانچے بشمول سرحد پار تصفیے اور زرمبادلہ کے عمل میں جدت لانے کے لیے کام کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو ملک کو عالمی ڈیجیٹل فنانس کے منظر نامے میں ایک اہم مقام دلانے میں مدد دے رہا ہے۔رائٹرز کی اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ لبرٹی فنانشل کی وجہ سے ٹرمپ خاندان کے کاروبار (ٹرمپ آرگنائزیشن) کی آمدنی میں گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ مئی میں ابوظہبی کی سرکاری سرمایہ کاری کمپنی ایم جی ایکس نے اسی کمپنی کے اسٹیبل کوائن کو استعمال کرتے ہوئے بائنانس میں 2 ارب ڈالر کے حصص خریدے تھے۔

پاکستان اس وقت ڈیجیٹل کرنسی کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے ،تاکہ نقد رقم (کیش) کے استعمال کو کم اور ترسیلاتِ زر جیسے سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔اسٹیٹ بینک کے گورنر نے جولائی میں بتایا تھا کہ بینک ڈیجیٹل کرنسی کے پائلٹ پراجیکٹ کے لیے تیاری کر رہا ہے اور ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین