36.6 C
Islamabad

یہ سچ ہے کہ ٹیکس کی زیادتی اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں۔وزیر خزانہ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں معاشی اصلاحات کے بغیر ترقی ممکن نہیں اور حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ کاروباری کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں اور اس کی بنیادی وجہ زیادہ ٹیکس اور توانائی کی بلند قیمتیں ہیں، جسے حل کرنے کے لیے حکومت اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے بدھ کو ’پاکستان پالیسی ڈائیلاگ‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی اب وزارت خزانہ کے اختیار میں ہے جبکہ ایف بی آر کا کام صرف ٹیکس محصولات جمع کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان میں 38 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہوئے اور رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔انہوں نے ٹیکس اور ٹیرف اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شعبہ توانائی میں بھی بڑے اقدامات جاری ہیں اور خام مال پر ڈیوٹیز کم کی گئی ہیں تاکہ برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ غیربینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے اور جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانے کے لیے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ضروری ہے اور تجارتی لاگت کو کم کرنا حکومت کی ترجیح ہےمحمداورنگزیب نے نجکاری کے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے حصہ لیا جبکہ 24 دیگر ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے گئے ہیں

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین