37.6 C
Islamabad

ٹرمپ کا عالمی تجارتی ٹیرف پر سپریم کورٹ کو انتباہ جاری

ٹرمپ نے عالمی تجارتی ٹیرف کے معاملے پر سپریم کورٹ کو شدید انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت نے ان کے عائد کردہ محصولات کو کالعدم قرار دیا تو امریکا کو سیکڑوں ارب ڈالر کی ادائیگیاں واپس کرنا پڑیں گی، جو کہ ملک کی معیشت کے لیے ایک سنگین بحران کا باعث بن سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں دیا، جہاں انہوں نے اس صورت حال کو “مکمل افراتفری” قرار دیا۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر ٹیرف کے خلاف آیا تو یہ نہ صرف قومی سلامتی سے جڑے معاملات کو متاثر کرے گا بلکہ امریکا کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “اگر فیصلہ ہمارے خلاف آیا تو ہم بری طرح پھنس جائیں گے۔ ادائیگیاں تقریباً ناممکن ہو جائیں گی، اور اتنی بڑی رقم کا حساب کتاب کرنے میں بھی برسوں لگ سکتے ہیں۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو جائے گا، وہ شدید غلط فہمی کا شکار ہے۔”یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع عالمی ٹیرف نظام کی قانونی حیثیت پر فیصلہ متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ آج بدھ کے روز سنایا جا سکتا ہے۔ یہ کیس ٹرمپ کی متنازع معاشی پالیسیوں اور صدارتی اختیارات کے حوالے سے ایک اہم قانونی امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں اعلان کیے گئے ان ٹیرف نے امریکا میں درآمد ہونے والی اشیا پر اضافی محصولات عائد کیے تھے، جن کا مقصد ملکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔ تاہم، یہ اقدامات چھوٹے کاروباری اداروں اور امریکا کی 12 ریاستوں کی جانب سے چیلنج کیے گئے ہیں۔ مدعیوں کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان محصولات کو عائد کر کے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین