30.9 C
Islamabad

ایس ای پی نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں 183 ترامیم لانے کی سفارش کردی

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے منگل کو کمپنیز ایکٹ 2017 میں کل 183 بڑی ترامیم کی تجویز پیش کی ہیں، جن کا مقصد کمپنیوں پر ریگولیٹری بوجھ کم کرنا اور پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کرنا ہے، تاکہ تعمیلی تقاضوں کو سرکاری طور پر ہم آہنگ کیا جا سکے۔ترمیمی تجاویز کی تفصیلات کے مطابق، بدلتی صورتحال کے پیش نظر ایس ای سی پی اور بورڈ آف انویسٹمنٹ نے ایک کمیٹی تشکیل دی جو ایکٹ کا جائزہ لے کر اس میں مناسب تبدیلیوں کی سفارش کرے گی۔کمیٹی نے جامع نقطہ نظر اختیار کرتے ہوئے بین الاقوامی بہترین طریقہ کار، اسٹیک ہولڈرز کی رائے، عملی مشکلات اور ایس ای سی پی کے ڈیجیٹلائزیشن پروگرام لیڈنگ ایفیشینسی تھرو آٹومیشن پرویس(لیپ) کے ساتھ ہم آہنگی جیسے عوامل کو پیش نظر رکھا۔

تجویز کردہ ترامیم کا بنیادی مقصد کاروباری طبقے پر ریگولیٹری دباؤ میں کمی لانا، کارکردگی بہتر بنا کر کاروبار کرنے میں سہولت پیدا کرنا، ڈیجیٹلائزیشن میں اضافہ کرنا، کارپوریٹ ڈھانچے کو فروغ دینا اور موجودہ قوانین میں ابہام کے خاتمے کے ذریعے غیرضروری ضوابط کو ختم کرنا ہے۔ یہ اصلاحات کمپنیوں کے اندرونی معاملات اور ایس ای سی پی سے متعلقہ کارروائیوں میں زیادہ شفافیت، کمپنی عہدیداروں کی ذمہ داریوں کی وضاحت اور احتساب میں اضافہ، جبکہ نفاذ کے بہتر اور تیز تر طریقہ کار کو بھی یقینی بناتی ہیں۔مجموعی طور پر یہ اقدامات کمپنیز ایکٹ 2017 کو کاروباری ترقی کے لیے ایک معاون فریم ورک بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، تاکہ غیر ضروری رکاوٹیں کم ہوں، طریقہ کار آسان ہوں اور ایسا ماحول پروان چڑھے جو کاروبار، اختراع اور نئی سرمایہ کاری کو آگے بڑھائے۔اسی کے ساتھ ساتھ مقصد ایک مضبوط تعمیلی، شفاف اور ذمہ دار کاروباری ماحول قائم کرنا ہے، جس سے کارپوریٹ سیکٹر میں اعتماد اور اعتبار پیدا ہو۔کاروباری ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے اور موثر نگرانی برقرار رکھتے ہوئے، یہ اصلاحات کمپنیوں کو بدلتے ہوئے معاشی ماحول میں بہتر کارکردگی دکھانے کا موقع فراہم کریں گی، جیسا کہ ایس ای سی پی کے تصوراتی مقالے میں بیان کیا گیا ہے۔کمپنیز ایکٹ میں تجویز کردہ ترامیم مستقبل بینی پر مبنی ایک قدم ہیں جن کا مقصد پاکستان کے کارپوریٹ ریگولیٹری ڈھانچے کو مضبوط، جدید اور ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنا ہے۔ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور عالمی معیارات کو اختیار کرنے کے ذریعے یہ اقدامات پاکستان کو ایک زیادہ مسابقتی، شفاف اور کاروبار دوست ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہیں۔ایس ای سی پی کے مطابق ان ترامیم کا دائرہ کار وسیع ہوگا اور یہ کمپنیوں کی کارکردگی اور عملی مشکلات سے متعلق کئی پہلوؤں کو شامل کرے گا

مزیداسی طرح کی
Related

تازہ ترین