امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ درجنوں بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں ایک اہم عالمی موسمیاتی معاہدہ اور خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں، اس لیے ان سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک میمو کے مطابق امریکہ 35 غیر اقوام متحدہ تنظیموں اور 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ان میں اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج بھی شامل ہے، جسے دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بنیادی معاہدہ سمجھا جاتا ہے اور یہی 2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بنیاد ہے۔
امریکہ گزشتہ سال تین دہائیوں میں پہلی بار اقوام متحدہ کی سالانہ عالمی موسمیاتی کانفرنس میں بھی شریک نہیں ہوا تھا۔
ماحولیاتی تنظیم نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل کے صدر اور سی ای او منیش باپنا نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اس معاہدے سے الگ ہوتا ہے تو وہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج سے نکلنے والا پہلا ملک ہوگا۔
ان کے مطابق دنیا کے تمام ممالک اس معاہدے کا حصہ ہیں کیونکہ وہ نہ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی اخلاقی ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہیں بلکہ ان مذاکرات میں شامل رہ کر بڑی معاشی پالیسیوں اور مواقع کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں۔
اس فیصلے کے تحت امریکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین، جسے ’یو این ویمن‘ کہا جاتا ہے اور جو صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتا ہے، اس سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ، یو این ایف پی اے سے بھی امریکہ نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی، زچگی اور بچوں کی صحت کے لیے سرگرم ہے۔
امریکہ پہلے ہی گزشتہ سال یو این ایف پی اے کے لیے اپنی فنڈنگ میں کمی کر چکا ہے۔
میمو میں واضح کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی کا مطلب ان اداروں میں شرکت اور مالی تعاون کا خاتمہ ہوگا۔صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی بیشتر اقوام متحدہ کے اداروں کے لیے رضاکارانہ امریکی فنڈنگ میں نمایاں کمی کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان کی جانب سے اس فیصلے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ اقدام صدر ٹرمپ کے کثیرالطرفہ اداروں کے حوالے سے طویل عرصے سے موجود تحفظات کی عکاسی کرتا ہے۔
وہ بارہا اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی افادیت، اخراجات اور جوابدہی پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ ادارے اکثر امریکی مفادات کا مؤثر تحفظ نہیں کرتے۔
اپنی دوسری مدت صدارت کے آغاز کے بعد سے صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے لیے امریکی فنڈنگ میں کمی کی کوششیں کیں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی اختیار کی، فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے لیے فنڈنگ روک دی اور اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو سے بھی نکلنے کا اعلان کیا ہے
