راولپنڈی اسلام آباد میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں شہریوں سے 60 ارب روپے سے زائد رقم بٹورے جانے کا انکشاف ہوا ہے
ابتدائی رپورٹ میں سرکاری ملازمین، پروفیشنلز، ریٹائرڈ افراد اور عام شہری اپنی رقم سے محروم ہو گئے ہیں
وفاقی دارالحکومت اور اس سے ملحقہ شہر راولپنڈی میں زمینوں کے لین دین کے حوالے سے ایک بڑی جعلسازی کا انکشاف ہوا ہے جس میں نجی ہاؤسنگ اسکیموں اور کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز نے پلاٹس کی حد سے زیادہ فروخت، جعلی ممبرشپس اور دھوکہ دہی پر مبنی لینڈ مارکیٹنگ کے ذریعے گزشتہ کئی برسوں کے دوران شہریوں سے کھربوں روپے کا مبینہ فراڈ کیا
نیب راولپنڈی نے اس معاملے کی مفصل تحقیقات کی ہیں جن سے بے ضابطگیوں کی حیران کن حد کا انکشاف ہوا ہے۔
صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کی حد تک 4 بڑی ہاؤسنگ اسکیموں نے دستیاب زمین یا اپنے منظور شدہ لے آؤٹ پلانز (LoPs) سے تقریباً 91 ہزار زائد پلاٹس اور فائلیں فروخت کیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ زمین کی غیر موجودگی کے باوجود 20 ہزار ممبرشپس فروخت کی گئیں۔
ہاؤسنگ اسکیموں نے تقریباً 80 ہزار کنال زمین کی تشہیر اور فروخت کی جو اُن کے منظور شدہ منصوبوں کا حصہ ہی نہیں تھی۔
