اسلام آباد()وفاقی دارالحکومت کے وکلاء نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسلام آباد سے ہی ججز کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ جوڈیشری پر کرپشن کا الزام بھی عائد کردیا۔گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء نمائندوں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان بارکونسل کے راجہ رضوان عباسی، اسلام آباد بار کونسل کے راجہ علیم عباسی،ظفر کھوکھر، اسلام آباد ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدر واجد علی گیلانی، سیکرٹری بیرسٹر قاسم نواز عباسی، ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کے صدر چودھری نعیم گجر، سیکرٹری خاور دھنیال اور دیگر عہدیداران نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، اسلام آباد بار کونسل کے ممبر راجہ علیم عباسی نے کہاکہ گزشتہ تین گھنٹے سے ہمارا اجلاس جاری تھا،ڈسٹرکٹ جوڈیشلی سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے،کرپشن کی سب سے زیادہ آوازیں ڈسٹرکٹ جوڈیشلی سے آرہی ہیں،ڈسٹرکٹ ججز کرپشن میں ملوث ہیں،ہماری جوڈیشل کمیٹی میں ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس آف پاکستان موجود ہیں،ضلعی عدلیہ کو دوسرے صوبوں میں ٹرا نسفر کیا جائے،ہمیں معلوم ہے لوگ اداروں کے نام سے کروائے جارہے ہیں،ایک دو فیصلے آپکے ہوں گئے لیکن بہت سے فیصلے کروائے جارہے ہیں،سول جج ڈسٹرکٹ جج کو کوئی خوف نہیں وہ کھلے عام کرپشن کررہے ہیں،جوڈیشلی پالیسی ساز کمیٹی میکنزم تیار کرے،ہمارا مطالبہ ہے ڈسٹرکٹ ججز کو دوسرے صوبوں میں ٹرانسفر کیا جائےاسلام اباد ہائیکورٹ اسلام اباد کی ہے، اسلئے بار ایسوسی ایشن سے تعیناتیاں کی جائیں،ہمیں لڑیں گے اپنے حق کے لئے اسلام اباد ہائیکورٹ تعیناتیاں اسلام سے ہونی چاہیں، تمام صوبائی ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتیاں انہی صوبے کے وکلا سے کی جاتی ہیں،تمام لا افسران کی تعیناتی بھی اسلام آباد بار سے ہونی چاہئے،چاروں صوبوں سے یہاں لوگ موجود ہیں،چاروں صوبوں کے وکلاء یہاں موجود ہیں،یہ تعیناتیاں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں،ہم جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،اسلام اباد کی تعیناتیاں اسلام آباد بار کونسل سے کی جائیں،اسلام آباد میں پنجاب سے تعیناتیاں کی جارہی ہیں،جنرل ہاوس میٹنگ کا مشترکہ مطالبہ ہے،تعیناتیاں اسلام آباد سے ہوں،اسلام اباد ہائیکورٹ ایکٹ میں بھی ترمیم کی جائیں،حکومت عوام کو اس ظلم سے چھٹکارا دلائے،ہمارا مطالبہ ابھی صرف مطالبات کی حد تک ہے،اگر مطالبات نہ مانے گئے تو اپکو ماضی کی تاریخ یاد ہے،بار ایسوسی ایشن آزاد باڈیز ہوتی ہیں،حکومت اور اداروں کو متنبہ کرتے ہیں،ہوش کے ناخن لیں،ملک کے لوگ اسٹیک ہولڈرز ہیں جو ٹیکس ادا کرتے ہیں،متلاشی جب عدالت آتاہے تو بیس تولے زیور کیس میں بھی ڈیل کی جارہی ہے،ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحب آپ اپنی زیر انتظام عدالت کو دیکھیں، راجہ علیم عباسی نے کہاکہ آپ ریفارمز اور ملک کو آگے لے جانے کی بات کرتے ہیں،اسطرح ملک اگئے نہیں جائے گا،نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی ظلم سے چھٹکارا دلائے،انصاف بکتا رہے گا تو لوگوں کو جوڈیشری سے اعتماد اٹھ جائے گا، راجہ علیم عباسی نے کہاکہ بارز آزاد ہوتی ہیں، کسی کی بغل بچہ تنظیمیں نہیں ہوتیں،ہم متنبہ کرتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لیں اور جائز مطالبات کو پورا کریں،اصل سٹیک ہولڈرز سائلین ہیں، ججز یا وکلا نہیں،آج بھی لوگ عدلیہ کی طرف دیکھتے ہیں،ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ماتحت عدلیہ کو دیکھیں کہ انصاف کا قتل ہو رہا ہے،اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو ملک گیر کنوشن کا انعقاد کریں گے،ابھی ہم کسی کرپٹ جج کا نام نہیں لے رہے،عدلیہ میں کرپشن سب سے برا مسئلہ ہے، ہم سسٹم میں رہ کر احتجاج کرتے ہیں، اسلام اباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد علی گیلانی نے کہاکہ ہمارا قانونی جرگہ منعقد ہوا ہے،تمام ممبران نے بڑی تفصیل سے سارے مطالبات اپکے سامنے رکھ دیے،تمام مطالبات کی توثیق کرتا ہوں،ہم پیار بھی کرتے ہیں،ہمیں دوسرا راستہ بھی آتا ہے،اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو پھر ایک بڑا کنوینشن یہاں منعقد کیا جائےگا،اسلام اباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری بیرسٹر قاسم نواز عباسی نے کہاکہ کرپٹ ججز کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے،ملک بھر کی عدلیہ کے لیے ایک مثال سیٹ کی جائے،اسلام اباد ہائیکورٹ میں تعینات بار کونسل کے ممبر اہل امیدوار ہیں،اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کے صدرچودھری نعیم گجر نے کہاکہ سب سے بڑا مسئلہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے حوالے سے ہے،جس طرح ڈسٹرکٹ جوڈیشری کرپشن میں ملوث ہے،جب بھی ججز سے بات کی جاتی ہے وہ کہتے ہیں،ہمیں اوپر سے حکم آیا ہے،اداروں کا نام استعمال کرے کے ڈن بنیادوں پر کام ہورہا ہے،ڈسٹرکٹ ججز جی جناب والا معاملے صرف ٹرانسفر نہ ہونے کے لئے کررہے ہیں،ہوسکتا ہے ملکی سالمیت کا کوئی ایک کیس ہو لیکن یہاں ہر کیس میں اداروں کا نام لیا جارہا ہے،ایگزیکٹو مجسٹریٹ نااہل لوگ ہیں،وہ بھی کہتے ہیں اوپر سے حکم ہے،اگر ایسا ہے تو پھر عدالتوں کو تالے لگا دیں،اسلام اباد ہائیکورٹ میں ججز تعیناتی بار ایسوسی ایشن اور سینئر ممبر سے ہونی چاہیے،عدلیہ میں سیاسی مداخلت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے،ہر سیاسی جماعت اپنے لوگ تعینات کروا کر انکو پرموٹ کروا رہی ہے۔
