ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد ’آبنائے ہرمز‘ کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت اسی مربوط راستے پر ہوگی جس کا اعلان ’ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن‘ پہلے ہی کر چکی ہے۔ایران کی جانب سے یہ اعلان لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے، جسے عالمی تجارت اور تیل کی بلا تعطل ترسیل کے حوالے سے انتہائی مثبت اور اہم سفارتی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یکے بعد دیگرے کئی بیانات جاری کیے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے بیان میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہےاور جہازوں کی آمد و رفت کے لیے مکمل آزاد ہے‘امریکی صدر نے اپنے بیانات میں نیٹو کی مدد کی پیشکش کو ٹھکرایا ہے، وہیں اسرائیل کو لبنان پر مزید بمباری کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد نیٹو نے اُن سے رابطہ کر کے مدد کی پیشکش کی ہے تاہم میں نے اس پیشکش کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ وہ صرف کاغذی شیر ہیں جو ضرورت کے وقت کام نہیں آتے
